پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان میں 16 جنوری سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافے کا امکان ہے۔

 رپورٹ کے مطابق یہ اضافے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی وجہ سے متوقع ہیں، جو تقریباً تین ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ اس اضافے کی بنیادی وجوہات میں سپلائی میں رکاوٹیں اور توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب شامل ہیں۔اس وقت خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے شرح مبادلہ میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے، جس کی بنا پر آئندہ 15 دنوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 3 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ہے۔ تیل کی قیمتوں میں یہ اضافے عالمی مارکیٹ کی صورتحال کی وجہ سے ہو سکتے ہیں، جن میں برینٹ کروڈ فیوچر کی قیمت کا 0.35 فیصد بڑھ کر 77.32 ڈالر فی بیرل تک پہنچنا شامل ہے، جو تین سال کی کم ترین سطح پر تیزی سے گرنے کے بعد اب بڑھ رہا ہے۔

پاکستان میں حکومت نے حالیہ ہفتوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔ پیٹرول کی قیمت میں 56 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 96 پیسے کا اضافہ کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، پاکستان میں 2024 کے آغاز میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا امکان اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔وزیر خزانہ اور وزیر اعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد خزانہ ڈویژن پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کرے گا۔ اس اعلان کے بعد عوام کو نئی قیمتوں کی اطلاع دی جائے گی اور اس کے مطابق تیل کے نرخوں میں ممکنہ اضافے کو نافذ کیا جائے گا۔

پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والے ان اضافوں کا براہ راست اثر عوام پر پڑے گا، خصوصاً عوامی نقل و حمل اور توانائی کے شعبے میں اس کے اثرات نظر آئیں گے۔