اسفالٹ پلانٹ بند،پرانی ادائیگیاں نہ ہونے سے ٹھیکیدار بھی نئے کام کرنے سے گریزاں
سڑکوں پر گہرے گڑھے ،مرکزی شاہراہوں پر بھی پیچ ورک نہ ہونے سے ٹریفک روانی متاثر ہونیلگی
لاہور (خصوصی رپورٹ)عرصہ دراز سے پیچ ورک اور کارپٹنگ نہ ہونے سے سڑکوں پر گڑھے پڑ گئے،تین سالوں میں تعمیراتی کام بروقت نہ ہونے سے سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہیں، شہر لاہور میں ایل ڈی اے کے زیر انتظام چلنے والے اسفالٹ پلانٹ بند ہیں اور کنٹریکٹر کو پرانی ادائیگیاں نہ ہونے سے ٹھیکیدار بھی نئے کام کرنے سے گریزاں ہیں.شہر کو خوبصورت بنانے کے لیے ایل ڈی اے کے منصوبے بند ہوگئے، ایل ڈی اے اور ٹیپا کا پیچ ورک اور پوٹ ہول مرمت کا کام ادھورا رہ گیا، ایل ڈی اے اور ٹیپا نے پہلے مرحلے میں 302 کلومیٹر سڑکوں پر پیچ ورک کرنا تھا، ایل ڈی اے اور ٹیپا نے 188 کلومیٹر پر پیچ ورک کے بعد کام بند کر دیا، شہر لاہور میں سڑکوں کی مرمت و بحالی کے منصوبے بند ہونے لگے،شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں پیچ ورک کے کام کو روک دیا گیا، مجموعی طور پر شہر میں 900 کلومیٹر طویل مرکزی اور رہائشی علاقوں کی شاہراہوں کو مرمت کی ضرورت درکار ہے، ایل ڈی اے کی جانب سے 302 کلومیٹر سڑکوں کی مرمت کا ٹاسک شروع کیا گیا تھا جو مکمل نہ ہوسکا، شہر کے وسطی اور نواحی علاقوں میں واقع سڑکوں پر گہرے گڑھے پڑ چکے ہیں، مرکزی شاہراہوں پر بھی پیچ ورک نہ ہونے سے ٹریفک روانی متاثر ہورہی ہے، حکومت کی جانب سے تاحال پیچ ورک اور کارپٹنگ کے لیے فنڈز نہ دیئے گئے۔