کیا شعور سے پیٹ بھر تا ہے

محمد تسنیم رضا
اہل اقتدار میں سے ایک محترم شخصیت  نے فرمایا ہے کہ شعور سے پیٹ نہیں بھرتا اور کیا روٹی کی جگہ شعور کھائیں گے ؟کیا شعور کو روزگار کا ذریعہ بنائیں اور کیا شعور پر سفر کریں۔اگر وہ درست فرماتی ہیں اور شایددرست ہی فرماتی ہوں گی ، میری اتنی ہمت نہیں کہ  ان کے فرمان کو جھٹلا ئوں اور غلط کہوں۔ہاں  اہل بصیرت  کی مثال ضرور دینا چاہوں گا  جن کا زندگی کا مقصد ہی لوگوں کی شعوری  سطح کو بلند کر کے انہیں اپنے حقوق اپنے وقار اپنی آزادی اور  خودداری سے روشناس کرانا تھا۔ابھی ماضی قریب میں  ہی جب ہندوستان متحد تھا دوعظیم الشان شخصیات  قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال نے اپنی زندگی کا اوڑنا بچھونا صرف لوگوں کی شعوری سطح کو بلند کرنا بنائے رکھاحتی کہ لوگوں نے روٹی کپڑا اور مکان  جیسی سب  ضروریات، اس وقت کی دستیاب سفر کی تمام سہولیات کو ٹھکرا کر صرف ایک ہی نعرہ بلند کیا ،لے کے رہیں گے آزادی ،انگریز نے کہا بھی کہ کیا آزادی سے تمہار پیٹ بھر جائے گا جو تم ہندوستانی تمام سہولتوں کو ٹھکرا کر ہر وقت آزادی آزادی کرتے رہتیہولیکن ان کے کہنے کے باوجود ہندوستانیوں  کے شعور نے  
 غلامی کی روٹی اور تمام سہولیات کو ٹھکرا کر صرف آزادی کو ترجیح دی جس کا نتیجہ آج پاکستان کی شکل میں ہمیں حاصل ہے ،لیکن افسوس اسی پاکستان کی محترم وزیر اعلی ہم سے سوال کرتی ہیں کہ کیا شعور سے پیٹ بھر جاتا ہے اور کیا روٹی کی جگہ شعور کھائیں گے تو جناب محترمہ  وزیر اعلی شعور سے پیٹ بھرتا بھی ہے اور شعور عزت سے روٹی کے حصول کو یقینی  بھی بناتا ہیجبکہ بے شعور انسان کا پیٹ کسی کی غلامی ،تحقیر اور ذلت کے ساتھ بھرتا ہے   اور کبھی خالی بھی رہتا ہے۔جناب محترمہ وزیر اعلی اگر ہم اس دنیا کو شعور کی نظر سے دیکھیں موجودہ اور سابقہ ادوار کا جائزہ لیں تو آپ کو اک عجیب سی بات معلوم ہو گی کہ دنیا میں جہاں جہاں انسان کوشعور حاصل ہوا وہاں وہاں اس کی روٹی بھی بہتر ہوئی اس کو بہتر اور باعزت روزگار اور آزادی بھی حاصل ہوئی اور جہاں شعور دبایا گیا ،وہاں بھوک ننگ اور بے روزگاری نے ڈیرے ڈال لئے یعنی معاملہ الٹ نکل آیا جس شعور کوغیر ضروری قراردیا جارہاہے  دراصل وہی دنیا میں ضروری ہے۔ لگتا ہے آپ کے اندر کے کسی خوف نے  شعور اور روٹی کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دیا ہے یہ خوف کیا ہے ؟ میرا خیال ہے یہ جوابدہی کا خوف ہے۔وزیر اعلی خیبر پختونخواہ کو بھی یہی خوف لاحق ہے۔جب  وسائل پر قابض کو یہ محسوس ہوجائے کہ لوگوں کے شعور نے انہیں  بتا دیا کہ اس کا پیٹ خالی کیوں ہے؟  اس کیبچے کو صحت کی سہولت کیوں میسر نہیں اس کے جگر گوشوں کو معیاری تعلیم کا حق کیوں حاصل نہیں اور اس کا کنبہ تنگ و تاریک ٹوٹے پھوٹے گھروں میں رہنے پر کیوں مجبور ہے ؟اس کے ایک پنکھے کا بل ہزاروں روپوں میں کیوں آتا ہے اور دوسروں کو سینکڑوں ہزاروں یونٹ مفت کس حق سے حاصل ہیں  ،اس کو انصاف کے لئے دھکے کیوں کھانا پڑتے ہیں؟ تو وہ حساب مانگے گا اور حساب مانگنے والا اہل اقتدار کے لئے بڑی مشکل پیدا  کر سکتا ہیاور یہی وہ مقام ہے جہاں عوام کا شعور خطرناک محسوس ہونے لگتا ہیکیونکہ کہ وہ  اقتدار پر قابض حکمرانوں کی اقتدار پر گرفت کو کمزور کر دیتا ہے۔ لوگ سوال کرتے ہیں وضاحت مانگتے ہیں ،حساب طلب کرنے لگتے  ہیں وسائل کی منصفانہ تقسیم کی 
بات کرتے ہیں، اسی لئے تو ہمارے سیاستدان ہمارے حکمران ہماری عوام کی شعوری سطح کو پست رکھنے کے لئے کبھی ہمیں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بھیک کا عادی بناتے ہیں ،کبھی صحت کا لولی پاپ دے کر نجی ہسپتالوں کو پیسے کمانے کا موقع فراہم کرتے ہیں اور کبھی سستے آٹے کی قطار میں لگوا کر ہماری تذلیل کرتے ہیں،یہ ہمیں جذباتی نعرے دیتے ہیں ،شخصیت پرست بناتے ہیں اندھی تقلید سکھاتے ہیں یہ ہمیں  کبھی زندہ ہے بھٹو زندہ ہے کے پیچھے لگاتے ہیں کبھی خود کو مرشد کے درجے تک پہنچاتے ہیں اور کبھی ووٹ کو عزت دو کا جھوٹا نعرہ لگا کر دہائیوں تک نسل در نسل  اقتدار  سے چمٹے رہتے ہیں ،یہ عوام کو اس کا حق دے کر احسان جتلاتے ہیں کہ یہ ہم نے آپ کے لئے کیا ہے ،حالانکہ اس طبقے کی تمام مراعات ،تمام کروفر ،تمام تر تکبر شاہانہ پروٹوکول انہی عوام کے پیسوں سے قائم ہے اور اسی عوام کا پیسہ عوام کو لوٹاتے ہوئے یہ ایسے احسان جتلاتے ہیں جیسے اپنے ذاتی خزانے سے پورا کر رہے ہوں،ان کو سب سے بہتر معلوم ہے   
کہ عوام کا شعور بڑا خطرناک ہوتا ہے یہ ان کے اقتدار کے سہاروں کو کمزور کر دیتا ہے جب لوگوں کو شعور آجاتا ہے تو پھر عوام کے لئے  جذباتی نعرے  منصوبوں پر تختیوں کی بھرمار اور اعلان کافی نہیں رہتے بلکہ وضاحت دینا پڑتی ہے جوابدہ ہونا پڑتا ہے ،جنرل باجوہ اورفیض حمید سے بننے والی حکومت ہو یا فارم ۷۴کی پیداوار سب کو کٹہرے میں کھڑے ہونے کا خطرہ ہوتا ہے کیونکہ شعور والا ووٹر صرف مہر نہیں لگاتا بلکہ وہ مہر کے نتیجے کو بھی سمجھنا چاہتا ہے ۔عوام کویہ بات  اچھی طرح سمجھ لینا چاہئیے کہ جو قومیں شعور کو بوجھ سمجھ کر ایک طرف رکھ دیں وہ وقتی سکون تو شاید حاصل کر لیں مگر پائیدار عزت اور وقار کبھی حاصل نہیں کر سکتیں  اور جو قومیں شعور کو اپنا سرمایہ بناتی ہیں وہ نہ صرف  بھوک ،محرومی اور غلامی سے نجات حاصل کر لیتی ہیں  بلکہ دنیا میں ایک باعزت مقام بھی پاتی ہیں۔آپ جاپان ،یورپ یا دنیا کے کسی بھی خطے کو دیکھیں سب نے ترقی کی بنیاد تعلیم ، آگہی اور اجتمائی شعور پر رکھی ہیپہلے ذہن بدلے ، پھر حالات بدلے ،پہلے ذہنوں میں سوال پیدا ہوئیپھر جوابوں نے نظام بنا دیئے ۔یوں باعزت روٹی آخر کار  شعور کے دروازے  سے ہی حاصل ہوئی   
اسی لیے مسئلہ یہ نہیں کہ شعور سے پیٹ بھرتا ہے یا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ بغیر شعور کے پیٹ کب تک اور کس قیمت پر بھرتا رہے گا۔ غلامی اور ذلت  کی روٹی وقتی آسودگی تو دے سکتی ہے مگر انسان کی پیشانی سے عزت چھین لیتی ہے۔ جبکہ شعور کی راہ مشکل ضرور ہوتی ہے، مگر وہ انسان کو اس مقام تک لے جاتی ہے جہاں روٹی حق بن کر ملتی ہے اور سر بھی جھکانا نہیں پڑتا۔
علامہ اقبال نے جب خودی اور بیداری کی بات کی تو وہ صرف شاعری نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ ایک سوئی ہوئی قوم کے شعور کوبیدار کررہیتھے اور نیلسن منڈیلا نے زندگی کا جوبڑا حصہ جیل میں گزارتھا اس کا مقصد صرف قوم کو پیٹ بھر کر کھانا کھلانا نہیں تھا بلکہ لوگوں کو عزت اور وقار کے ساتھ جینے کا سلیقہ سکھانا تھا کیونکہ عزت ہمیشہ شعور سے جڑی ہوتی ہے روٹی سے نہیں صرف روٹی اور بھرا ہوا پیٹ غلاموں کی ضرورت تو ہو سکتی ہے باعزت اور باوقار قوموں کی نہیں بغیر شعورپیٹ یا خالی رہتا ہے یا دوسروں کے رحم و کرم سے بھرتا ہے جبکہ شعور پیٹ بھرنے کو حق بناتا ہے ،حق مانگتا بھی ہے اور نہ ملے تو اہل اقتدار سے حاصل بھی کر لیتا ہے اسی لئییتو اہل اقتدار کو شعور سے ڈر لگتا ہے