وفاقی حکومت نے جی ڈی پی گروتھ بڑھانے کے لیے نیا معاشی منصوبہ متعارف کرانے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے جی ڈی پی گروتھ بڑھانے کے لیے نیا معاشی منصوبہ متعارف کرانے کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک کی معاشی ترقی کے لیے ایک نئے منصوبے "اڑان پاکستان" کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد 2024-2025 کے دوران جی ڈی پی کی شرح نمو 9.8 فیصد تک بڑھانا، شرح خواندگی کو 70 فیصد تک لے جانا اور غربت میں 13 فیصد کمی لانا ہے۔

 اس منصوبے کو وزیراعظم شہباز شریف نے منظوری دی ہے اور وہ اس منصوبے کا باقاعدہ آغاز جمعہ کے روز ایک خصوصی تقریب میں کریں گے۔نئے پانچ سالہ "اڑان پاکستان" منصوبے کے تحت حکومت نے مختلف اہداف طے کیے ہیں، جن میں پاکستان کی معیشت کا حجم 2035 تک ایک ٹریلین ڈالرز تک پہنچانے کا ہدف بھی شامل ہے۔ اس منصوبے کا مقصد پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینا اور پاکستان کو عالمی اقتصادی سطح پر ایک مضبوط حیثیت میں لانا ہے۔

منصوبے کے اہم نکات:

معاشی ترقی: منصوبے کے تحت جی ڈی پی کی شرح نمو 9.8 فیصد تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
تعلیمی ترقی: شرح خواندگی کو 70 فیصد تک بڑھانا۔
غربت میں کمی: غربت کی شرح میں 13 فیصد کمی لانے کی کوشش۔
معاشی حجم: سال 2035 تک پاکستانی معیشت کا حجم ایک ٹریلین ڈالرز تک پہنچانا۔
معاشی ڈھانچہ: منصوبہ برآمدات، انفرا اسٹرکچر، اور ماحولیات پر توجہ مرکوز کرے گا۔
فائیو ایز فریم ورک: منصوبہ فائیو ایز فریم ورک پر مبنی ہوگا جس میں انفرا اسٹرکچر، ایکویٹی، ایتھکس، اور عوامی بااختیاری پر زور دیا جائے گا۔
ریلوے اور ماحولیات: ریلوے ایم ایل ون منصوبہ اور ماحولیات کی بہتری بھی اس منصوبے کے اہم حصے ہیں۔وزیراعظم کے مطابق، یہ منصوبہ پاکستان کو پائیدار بلند معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا اور اس کے نتیجے میں ملک کی معیشت مضبوط ہو گی، جو نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک نمایاں مقام حاصل کرے گی۔

منصوبے کی اہمیت: یہ منصوبہ پاکستان کے معاشی بحران کو حل کرنے کی ایک کوشش ہے اور اس کے ذریعے حکومت نہ صرف ملکی معیشت میں ترقی کی راہ ہموار کرے گی بلکہ عوامی سطح پر بھی معاشی بہتری لانے کی کوشش کرے گی۔ اس کے علاوہ، حکومت نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے منصوبے میں شامل مختلف اقدامات پر تیزی سے عمل درآمد کرنے کا عہد کیا ہے تاکہ یہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔اس منصوبے کی کامیابی کے لیے حکومت نے مختلف فنی اور اقتصادی ماہرین کی ٹیم تشکیل دی ہے جو اس منصوبے کی نگرانی کرے گی اور اس کے نتائج کو وقتاً فوقتاً پرکھے گی۔