حکومت پنجاب شنگھائی کے حکام کے ساتھ آئی ٹی سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے:مریم نواز

حکومت پنجاب شنگھائی کے حکام کے ساتھ آئی ٹی سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے:مریم نواز

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب شنگھائی کے حکام کے ساتھ آئی ٹی سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، اور اس مقصد کے لیے چین کے شنگھائی شہر کے ساتھ تعاون کو مزید بڑھایا جائے گا۔

ملاقات کی تفصیلات:
مریم نواز سے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی شنگھائی کمیٹی کے ڈپٹی سیکریٹری زؤ زونگ منگ نے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پنجاب اور شنگھائی کے درمیان معاشی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور مختلف شعبوں جیسے تجارت، سرمایہ کاری، سائنس، ٹیکنالوجی، اور صنعت میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اہم نکات:
مریم نواز کا بیان:

وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے شنگھائی کی کمپنیوں کو پنجاب کے اسپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔انہوں نے کہا کہ شنگھائی کا عالمی سطح پر فنانشل اور تجارتی مرکز کے طور پر ابھرنا قابلِ تحسین ہے اور پنجاب آئی ٹی، آٹو موبائل، سیمی کنڈکٹر، روبوٹکس اور دیگر شعبوں میں شنگھائی کی کمپنیوں کے ساتھ اشتراکِ عمل کا خواہش مند ہے۔مریم نواز نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ چین کے تعاون سے پاکستان میں آئی ٹی انڈسٹری تیزی سے فروغ پا رہی ہے اور پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر چین کے ساتھ مل کر صدر زی جن پنگ کے وژن کے مطابق ترقی کر رہا ہے۔
چین اور پاکستان کے تعلقات:

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان اور چین نواز شریف اور شہباز شریف کے دور حکومت میں مزید قریب آئے ہیں اور ان کے دور میں ہی چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور جیسے گیم چینجر منصوبے کا آغاز ممکن ہوا۔مریم نواز نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اور معاشی اعشاریے بہتری کی طرف گامزن ہیں، خاص طور پر کئی سالوں کے سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے بعد۔چین کی کمپنیوں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کے لیے ترجیحی بنیادوں پر سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
ڈپٹی سیکریٹری زؤ زونگ منگ کا بیان:

زؤ زونگ منگ نے اس بات پر زور دیا کہ تجارت، سرمایہ کاری، انفرا اسٹرکچر، عوامی رابطے اور باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں۔
نتیجہ:
مریم نواز نے اس موقع پر پاکستانی طلبہ اور ماہرین کو ٹریننگ اور تعلیم کے مواقع فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا اور شنگھائی کی کمپنیوں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کے لیے ایک مضبوط اور فائدہ مند ماحول کی پیشکش کی۔ یہ ملاقات نہ صرف پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک قدم ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اشتراک کے نئے امکانات کو بھی کھولنے کا باعث بنے گی۔