وفاقی وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے اہم بیان جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق خبریں انتہائی تشویشناک ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی صحت کے حقائق فوری طور پر قوم کے سامنے لائے جائیں۔شفیع جان کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت کے ساتھ کسی قسم کا کھیل ناقابل برداشت ہے، اور سابق وزیراعظم سے ملاقاتوں پر مسلسل پابندی وفاقی و پنجاب حکومت کی آمرانہ طرز حکمرانی کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی فیملی، پارٹی قیادت، کارکنان اور پوری قوم ان کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہے۔ان کا مطالبہ ہے کہ عمران خان سے ان کی بہنوں اور ذاتی معالجین کی ملاقات فوری کرائی جائے اور ان کا علاج ذاتی معالجین کی نگرانی میں سب سے بہترین ہسپتال میں کرایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان کو گزشتہ 9 ماہ سے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، اور ان کی فیملی، ذاتی معالجین اور سیاسی قیادت کو ان تک رسائی نہیں دی جا رہی۔
شفیع جان نے ماضی کا حوالہ دیا اور کہا کہ نواز شریف کو طبی بنیادوں پر ریلیف دیا گیا تھا، مریم نواز کو بھی نواز شریف کی تیمارداری کے لیے ضمانت ملی تھی، لیکن عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کو بنیادی طبی سہولیات اور ذاتی معالجین سے محروم رکھا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کوئی غیر آئینی مطالبہ نہیں کیا، اور عمران خان کو طبی سہولیات فراہم کرنا ان کا بنیادی آئینی و قانونی حق ہے، مگر موجودہ حکمران آئین، قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔شفیع جان نے اعلان کیا کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب بھرپور لانگ مارچ ہوگا کیونکہ اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت اور حقوق کے تحفظ کے لیے ان کی آئینی و جمہوری جدوجہد جاری رہے گی۔