ٹرمپ کا بڑا فیصلہ، ایران جنگ کے دوران امریکی تیل سپلائی کے لیے پابندی میں نرمی کردی

ٹرمپ کا بڑا فیصلہ، ایران جنگ کے دوران امریکی تیل سپلائی کے لیے پابندی میں نرمی کردی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ اور اس کے نتیجے میں توانائی کی ترسیل میں مشکلات کے پیش نظر ایک اہم شپنگ رعایت میں مزید 90 روز کی توسیع کردی ہے۔

اس رعایت کے تحت غیر ملکی بحری جہازوں کو امریکہ کی مختلف بندرگاہوں کے درمیان تیل اور دیگر اہم اشیا کی نقل و حمل کی اجازت دی جائے گی۔ یہ رعایت امریکی جونز ایکٹ سے متعلق ہے، جس کے تحت عام حالات میں امریکی بندرگاہوں کے درمیان تجارتی سامان کی ترسیل کے لیے امریکی ملکیت، امریکی پرچم بردار اور امریکی عملے والے جہازوں کا استعمال لازمی ہوتا ہے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق، اس مرتبہ 90 روزہ رعایت کا دائرہ محدود رکھا گیا ہے، اور اس میں خصوصی طور پر توانائی سے متعلق اشیا کی نقل و حمل کو ترجیح دی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان ٹیلر راجرز کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد امریکی فوج اور صنعتی شعبوں کو ضروری وسائل کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس رعایت کے نتیجے میں ملک کے اندر ضروری اشیا جیسے پٹرول، ڈیزل اور طیاروں کا ایندھن کی ترسیل میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز سمیت مشرق وسطیٰ کے دیگر اہم بحری راستوں میں مشکلات کی وجہ سے تیل کی ترسیل، شپنگ انشورنس اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔امریکی حکام کا خدشہ ہے کہ اگر توانائی کی سپلائی میں مزید رکاوٹیں آئیں، تو پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اسی لیے، ٹرمپ انتظامیہ نے ملکی سطح پر توانائی کی ترسیل کو برقرار رکھنے کے لیے جونز ایکٹ کی پابندیوں میں عارضی نرمی کا فیصلہ کیا ہے۔نئی رعایت 90 روز کے لیے نافذ ہوگی، جس کے ذریعے بعض غیر ملکی بحری جہاز امریکی بندرگاہوں کے درمیان ضروری توانائی مصنوعات کی نقل و حمل کرسکیں گے۔اس رعایت کا دائرہ محدود ہونے کا مقصد فوری طور پر توانائی کے شعبے کی مشکلات کو کم کرنا اور جونز ایکٹ کے بنیادی ڈھانچے کو محفوظ رکھنا ہے۔