عراق کے کردستان ریجن سے امریکی فوجی دستوں کے انخلا کی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں، اور امریکی زیر قیادت بین الاقوامی فوجی اتحاد کے اہم اڈوں کو عراقی سکیورٹی فورسز کے حوالے کرنے کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔
عراقی حکومت کے مطابق، امریکا اور بغداد کے درمیان 2024 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت کردستان ریجن سے فوجی انخلا اور فوجی اڈوں کی منتقلی کا عمل 30 ستمبر تک مکمل کیا جائے گا۔حکومت کے ترجمان حیدر العبودی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ رابطہ جاری ہے اور مختلف مقامات کا ریکارڈ تیار کرکے انہیں متعلقہ عراقی فورسز کے حوالے کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل منظم انداز میں آگے بڑھ رہا ہے اور 30 ستمبر تک یہ تنصیبات عراقی سکیورٹی اداروں کے کنٹرول میں ہوں گی۔ترجمان نے بتایا کہ انخلا کے عمل کو بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کرنے کے لیے اعلیٰ عسکری سطح پر منصوبہ بندی جاری ہے اور دونوں جانب کی رابطہ ٹیمیں باقاعدگی سے ملاقاتیں کر رہی ہیں۔ کردستان کے مقامی حکام نے حالیہ دنوں میں امریکی فوجی نقل و حرکت میں غیر معمولی تیزی کی نشاندہی کی ہے، اور رواں ماہ کے آغاز میں اربیل میں امریکی فوجی قافلوں اور سامان کی منتقلی کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے امریکی فوج کے انخلا میں تیزی کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔
عراقی حکومت کی جانب سے یہ پہلا باضابطہ بیان ہے جس میں کردستان ریجن سے امریکی زیر قیادت اتحاد کے انخلا کے عمل کی 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن کے مطابق تصدیق کی گئی ہے۔ تاہم، حکام نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے فوجی اہلکار عراق سے روانہ ہوں گے اور کتنے فوجی اڈے عراقی فورسز کے حوالے کیے جائیں گے۔امریکی زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد نے 2014 سے عراق اور کردستان ریجن میں داعش کے خلاف عراقی فورسز کی معاونت کی ہے، اور شام میں کارروائیوں کے لیے بھی ان مقامات کو استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ 2017 میں داعش کی علاقائی شکست کے بعد بغداد نے اتحادی مشن کو جنگی کردار سے نکال کر مشاورتی، انٹیلی جنس اور سکیورٹی تعاون تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ، اگرچہ فوجی انخلا مکمل ہو جائے گا، لیکن فضائی دفاع، انٹیلی جنس اور انسداد دہشت گردی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ سکیورٹی تعاون جاری رہے گا۔