ویب ڈیسک: برطانیہ کے دارالحکومت لندن سے بڑی تعداد میں کروڑ پتی افراد ہجرت کر رہے ہیں، جس پر معاشی ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ویلتھ ایڈوائزری فرمز کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صرف گزشتہ سال 11 ہزار سے زائد کروڑ پتی افراد لندن چھوڑ چکے ہیں۔ان افراد کے لندن چھوڑنے کی بنیادی وجوہات میں مسلسل بڑھتے ہوئے ٹیکسز، 2008ء کے مالیاتی بحران سے مکمل طور پر بحالی میں ناکامی، اور بریگزٹ یعنی برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔رپورٹس کے مطابق لندن چھوڑنے والے زیادہ تر کروڑ پتی افراد نے ایشیائی ممالک یا امریکا کا رخ کیا ہے۔ اگرچہ اب بھی لندن میں تقریباً 2 لاکھ 15 ہزار 700 کروڑ پتی افراد موجود ہیں، لیکن یہ تعداد ماضی کے مقابلے میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
یاد رہے کہ لندن کبھی دنیا میں سب سے زیادہ کروڑ پتی افراد رکھنے والا شہر تھا، لیکن 2014ء کے بعد سے اس شہر میں موجود امیر افراد کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ صرف گزشتہ 10 سال میں لندن نے اپنے 12 فیصد امیر ترین شہریوں کو کھو دیا ہے، اور اب لندن کا شمار دنیا کے ان سرفہرست 5 شہروں میں نہیں ہوتا جہاں سب سے زیادہ امیر افراد بستے ہیں۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو لندن کی معیشت اور عالمی سطح پر اس کے معاشی اثر و رسوخ پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔