لاہور: سیشن عدالت نے ٹک ٹاکر علی حیدرآبادی کی ضمانت کی توثیق کردی۔
کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج نورین انجم نے کی، جبکہ علی حیدرآبادی کی جانب سے وکیل رانا انتظار حسین عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوران میڈیکل بورڈ کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی، جس میں مدعیہ زینب کی جانب سے ظاہر کی گئی چوٹوں کو مبینہ طور پر جعلی قرار دیا گیا۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد مقدمے کے بنیادی الزامات اور دستیاب شواہد پر سوالات اٹھ گئے۔علی حیدرآبادی کے وکیل رانا انتظار حسین نے عدالت سے استدعا کی کہ مقدمے میں عائد الزامات اور پیش کیے گئے شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے علی حیدرآبادی کی ضمانت کی توثیق کردی، جس کے بعد زینب کی مدعیت میں درج مقدمے میں ٹک ٹاکر کو اہم قانونی ریلیف مل گیا۔
وکیل رانا انتظار حسین کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر جعلی میڈیکل شواہد تیار کروانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔ ان کا مؤقف تھا کہ کسی شہری کے خلاف جھوٹے شواہد کی بنیاد پر کارروائی نہیں ہونی چاہیے اور قانون کو گمراہ کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف قانونی ایکشن لیا جائے گا۔مقدمے میں آئندہ قانونی کارروائی دستیاب شواہد اور عدالتی عمل کے مطابق آگے بڑھے گی۔