لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )وزیر آباد کے علاقے رسول نگر کے رہائشی اسد مجید جو 28 اگست کی رات کو دریائے چناب میں آنے والے سیلابی ریلے میں چوبیس گھنٹے تک ہر لمحہ جیتے اور مرتے رہے۔انہوں نے گفتگو میں بتایا ہے کہ وہ 24گھنٹے سیلابی ریلے کے دوران ایک درخت سے چمٹے رہے کیونکہ درخت کے اوپر کوبرا سانپ تھا اور نیچے 10 سے 12 فٹ گہرا سیلاب کا پانی اور اگر میں سانپ کو بھگانے کی کوشش کرتا تو اس کے ڈسنے سے میری موت یقینی تھی اور اگر درخت کو چھوڑ کر پانی میں چھلانگ لگاتا تو ڈوب کر مر جاتا۔ اسد مجید نے اپنی روداد سناتے ہوئے مزید کہا کہ جس وقت سیلابی پانی اچانک بیلے میں داخل ہوا، صورت حال دیکھتے ہوئے میں نے باقی لوگوں سے کہا کہ آپ لوگ کشتی میں بیٹھ کر چلے جائیں میں مویشیوں کو کھول کر ان کے اوپر بیٹھ کر گائوں پہنچ جائوں گا ،میرے پاس 33 بھینسیں تھیں جو سیلابی ریلے میں بہہ گئیں ، میں بھی ریلے میں بہہ گیا۔ ایک درخت پر چڑھنے کی کوشش کی تو اوپر والی شاخ پر سات سے آٹھ فٹ لمبا کوبرا سانپ بیٹھا تھا اور مجھے دیکھ کر وہ پھنکارنے لگا ،میں نے اپنے اعصاب کو قابو میں رکھا ،میرے جسم کے نیچے کا حصہ پانی میں ڈوبا ہوا تھا ، اس درخت کی ایک شاخ پر کوبرا سانپ اوردوسری شاخ پر آٹھ دس جنگلی چوہے بیٹھے تھے ،سانپ زور سے پھنکارتا جبکہ جنگلی چوہے بھی آوازیں نکالنا شروع کر دیتے ۔ایک مرتبہ سانپ نے اپنے منہ سے پانی نما چیز نکال کر میری طرف پھینکی لیکن میں بچ گیا۔ اسی صورت حال میں رات کا اندھیرا چھا گیا تو میں نے اپنا دھیان ان چیزوں سے ہٹانے کے لیے سانپ سے باتیں کرنا شروع کر دیں اور طلوع صبح تک یہ سلسلہ جاری رہا ۔