غریب کے بچے چڑیاگھر کی تفریح سے محروم ہو گئے

 فرخ ریاض بٹ 
پاکستان کے دل لاہور شہر میں موجود چڑیا گھر جو 1872ء میں قائم کیا گیا، بچوں کی سب سے بہترین تفریح گاہ ہے۔یہ چڑیا گھر شروع میں چند پرندوں کی مدد سے شروع کیا گیا تھا جو لعل ماہندرا رام نے فراہم کیے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا، آج اس چڑیا گھر میں تقریباً 150 سے زائدمختلف اقسام کے جانور ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد مختلف اقسام کے پرندے موجود ہیں۔یہ چڑیا گھر 1872 ء سے 1923ء تک لاہور میونسپلٹی کے زیر انتظام رہا اور اس کے بعد 1962ء تک لاہور کے ڈپٹی کمشنر کو اس کے انتظامات حوالے کیے گئے۔ اس کے بعد سے یہ 1982ء تک یہ چڑیا گھر صوبائی محکمہ امور حیوانات اور اس کے بعد سے اب تک یہ محکمہ جنگلی حیات کے زیر انتظام چلایا جا تارہا ہے۔ محکمہ جنگلی حیات کے حوالے ہونے کے بعد اس چڑیا گھر میں کئی مثبت تبدیلیاں کی گئیں تھیں جن میں نئی عمارات اور سہولیات کی فراہمی تھی۔ چڑیا گھر کے اندر نباتاتی باغ بھی تعمیر کیا گیا ہے۔لاہور چڑیا گھر کی ری ویپنگ کا منصوبہ 2023 میں نگران حکومت نے شروع کیا تھا۔منصوبے پر ایک ارب 83 کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کی گئی ہے۔نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے چڑیا گھر لاہور کی تزئین و آرائش کا منصوبہ مکمل کیا۔ اب چڑیا گھر میں بے پناہ سہولتیں تو دستیاب ہیں لیکن غریب عوام چڑیا گھر کی تفریح سے محروم ہو گئے ہیں۔
 چڑیا گھر کی تزئین وآرائش کے بعد پرائیویٹ کمپنی کو ٹھیکہ دے دیا گیا ہے۔ٹھیکیداری نظام کے بعد لاہور چڑیا گھر کی سیر شہریوں کے لیے ایک خواب بن گئی، نجی کمپنی چڑیا گھر میں آنے والے شہریوں کی جیبوں سے پیسے بٹور رہی ہے، پارکنگ، داخلہ فیس کے علاوہ چڑیا گھر میں جھولوں کی قیمتیں آسمان پر جا پہنچیں ہیں۔لاہور چڑیا گھر کو نجی شعبے کے حوالے کیے جانے کے بعد چڑیا گھراندر مختلف تفریح سہولتوں کی الگ سے ٹکٹ لینا پڑتی ہے۔لاہور چڑیا گھر کی انٹری ٹکٹ 100 روپے، ایکوریم 100 روپے، سانپ گھر 200 روپے، واک تھرو ایوری 100 روپے، مکسڈ رئیلٹی 100 روپے، ورچوئل رئیلٹی 200 روپے اور زو ہالو ورس300 روپے ادا کرنا ہوں گے۔ جبکہ پارکنگ فیس الگ سے ادا کرنا ہوگی۔یعنی ایک آدمی کو چڑیا گھر کی مکمل سیر کا خرچہ 1100 روپے ادا کرنا ہوگا، اگر تین بچوں کے ساتھ ایک فیملی تفریح کے لیے آئیگی تو 5 ہزار روپے ٹکٹوں کی ہی ادا کرنا پڑیں گے جبکہ الیکٹرک جھولوں، ہارس رائیڈ،جمپنگ کیسل کی ٹکٹ الگ ہوگی۔ واک تھرو ایوری میں شہری پرندوں کو اپنے ہاتھوں سے دانہ بھی ڈال سکیں گے لیکن اس کی رقم الگ سے ادا کرنا ہوگی۔لاہور چڑیا گھر کی ری ویپنگ کا منصوبہ مکمل ہوچکا ہے کہ بڑی تعداد میں نئے جانور،پرندے اور ریپٹائلز بھی لائے گئے ہیں تاہم بیرون ملک سے بعض نئے جانور ابھی لائے جانے باقی ہیں۔لاہور چڑیا گھر میں ہالوورس ورچوئل رئیلٹی کا نیا اضافہ کیا گیا ہے۔ ہالوورس پر تقریبا دو کروڑ روپے لاگت آئی ہے،60 ملین صرف بلڈنگ کی تعمیر پر خرچ ہوئے ہیں جبکہ 200 ملین کا سامان خریدا گیا ہے۔لاہور چڑیا گھر کو تین سال کے لیے نجی شعبے کے حوالے کیا گیا ہے۔ ٹھیکہ حاصل کرنیوالی کمپنی نے پارکنگ،انٹری گیٹس ،ایوری،ہالو ورس سمیت دیگر مقامات پر اپنا سٹاف تعینات کیا ہے۔ جس کا شہریوں 
بالخصوص خواتین کے ساتھ رویہ توہین آمیز ہے۔ چڑیا گھر کے اندر اور باہر لوٹ مار عروج پر ہے، پارکنگ جہاں 100روپے گاڑی اور 50 روپے بائیک کے وصول کئے جا رہے ہیں اور اندر کینٹین پر بھیجاری ہے جہاں درجہ سوم کی منرل واٹر کی بوتل اور جعلی کولڈ ڈرنک 100،100روپے میں فروخت ہو رہی ہے دہی بھلے اور چاٹ کے نام پر زہر بیچا جارہا ہے۔ چڑیا گھر میں دستیاب کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں بھی عام مارکیٹ کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔غریب عوام پہلے چڑیا گھر میں معمولی خرچ کے ساتھ لطف اندوز ہوتے تھے لیکن اب اضافی اخراجات کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔عیدالفطر پر بچوں کو تفریح کے لیے چڑیا گھر لانے والے شہری ٹکٹ قیمت میں بہت زیادہ اضافے سے پریشان ہوئے تھے۔ لاہور میں چڑیا گھر کی تفریح بھی غریب کی پہنچ سے دور کردی گئی، چھوٹی فیملی کو بھی سیر کے لیے ہزاروں روپے چاہئیں، داخلہ ٹکٹ کے ریٹ بھی آویزاں نہیں۔ چڑیا گھر غریبوں کے بچوں کے لیے سستی تفریح تھی، اس کو بھی مہنگا کردیا گیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز چڑیا گھر میں ہونے والی لوٹ مار کا نوٹس لیں اور غریب افراد کے بچوں کو سستی تفریح کی فراہمی کو ممکن بنائیں۔