عدالتی دستاویزات پر جعلی دستخط،مہریں استعمال کا انکشاف

ابتدائی تحقیقات میں سب انسپکٹر اور تین اے ایس آئی ملوث پائے گئے، فوری طور پر معطل کر دیا گیا ،مقدمہ درج
لاہور (کرائم رپورٹر)پنجاب پولیس میں جعلسازی اسکینڈل بے نقاب! وزیرِاعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب کی سخت ہدایات پر ڈی پی او ڈیرہ غازی خان کیپٹن (ر) طارق ولایت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے بدعنوان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیاذرائع کے مطابق، عدالتی دستاویزات پر جعلی دستخط اور مہریں استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد ڈی پی او ڈیرہ غازی خان نے کڑا احتساب شروع کر دیا۔ ابتدائی تحقیقات میں سب انسپکٹر اور تین اے ایس آئی ملوث پائے گئے، جنہیں فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔واقعے کا مقدمہ تھانہ سول لائن میں درج کر لیا گیا ہے، اور ملزمان کے خلاف دفعہ 155-سی پولیس آرڈر کے تحت کارروائی جاری ہے۔معطل اہلکار جعلی ریمانڈ اور ضمانت نامے تیار کر کے بدعنوانی میں ملوث تھے۔ڈی پی او کیپٹن (ر) طارق ولایت نے واضح کیا ہے کہ پولیس میں جعلسازی یا بدعنوانی کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ایماندار افسران ہی محکمہ پولیس کا فخر ہیں، ایسے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے پنجاب پولیس ترجمان کے مطابق، اس واقعے کے بعد دیگر اضلاع میں بھی تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ جعلسازی میں ملوث کسی بھی اہلکار کو قانون کے شکنجے میں لایا جا سکے۔