روم (نیٹ نیوز) یورپی باشندوں کی جلد کی رنگت کے بارے میں دیرینہ تصورات کو چیلنج کرتے ہوئے ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً تین ہزار سال قبل تک زیادہ تر یورپی باشندے گہری رنگت رکھتے تھے۔ یہ تحقیق جو پری پرنٹ بائیو آرکائیو ڈیٹا بیس میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق اٹلی کی یونیورسٹی آف فیرا کے گائڈو باربوجانی کی سربراہی میں کی گئی۔ اس میں 348 ایسے افراد کے جینیاتی نمونے کا تجزیہ کیا گیا جو 1700 سے 45 ہزار سال قبل تک یورپ میں رہائش پذیر تھے۔ تحقیق میں معلوم ہوا کہ ان میں سے 63 فیصد افراد کی جلد کی رنگت گہری تھی جبکہ صرف آٹھ فیصد افراد ہلکی رنگت کے حامل تھے۔این ڈی ٹی وی کے مطابق تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ یورپ میں ہلکی رنگت رکھنے والے افراد کی تعداد محض تین ہزار سال قبل زیادہ عام ہوئی۔ یہاں تک کہ برونز اور آئرن ایج میں، جو تقریباً پانچ سے تین ہزار سال قبل کا زمانہ ہے، آدھے سے زیادہ افراد کی جلد گہری یا درمیانی رنگت کی تھی۔تحقیق میں مزید کہا گیا کہ یورپ میں جلد کی رنگت میں تبدیلی وقت اور جگہ کے لحاظ سے یکساں نہیں تھی بلکہ یہ توقع سے کہیں زیادہ سست رفتار عمل تھا۔ یہاں تک کہ کانسی اور لوہے کے دور میں بھی یورپ میں بڑی تعداد میں افراد کی جلد گہری یا درمیانی رنگت کی تھی۔ماہرین نے قدیم یورپی باشندوں کے ڈی این اے کا تجزیہ ان کی ہڈیوں اور دانتوں سے کیا تاکہ ان کی جلد کی رنگت کا تعین کیا جا سکے۔ تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ نیولیتھک (زرعی انقلاب) کے دوران ہلکی آنکھوں کا رنگ زیادہ عام ہوا، جبکہ یوریشیا کے مغربی حصے میں کاشتکاروں کے پھیلاؤ کے ساتھ یہ تبدیلی مزید تیز ہوئی۔ تاہم مختلف جینیاتی اثرات اور نسلوں کے اختلاط نے بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ماضی میں یہ نظریہ پیش کیا گیا تھا کہ جدید انسان تقریباً 45 ہزار سال قبل یورپ پہنچا اور سورج کی کم روشنی کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لیے اس کی جلد کی رنگت ہلکی ہوگئی۔ جیسے جیسے آبادی میں اضافہ ہوا اور زراعت عام ہوئی، غذا میں وٹامن ڈی کی کمی کے باعث جلد کے ذریعے اسے جذب کرنے کی صلاحیت زیادہ فائدہ مند ثابت ہوئی۔