سید منیر حسین گیلانی
ایران اور امریکہ اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی مخصوص حالات کی پیداوار نہیں، یہ 1979ء سے جاری ہے،جب رضا شاہ پہلوی کی بادشاہت کو امام خمینی کی قیادت میں ایرانی قوم نے اکھاڑ پھینکا،تو ایران عالمی استعمار کی نظروں میں کھٹکنے لگا۔ایران کو کمزور کرنے کے لئے کبھی عراق کو استعمال کیا گیا ، تو کبھی امریکی سرپرستی میں39 ممالک کا اتحاد تشکیل دیا گیا۔ بھیانک پالیسی کے تحت مسلم ممالک کو باہمی طور پر الجھانے کے لئے جہاں مسلکی اختلافات کو ہوا دینے کی سازشیں کی گئیں،وہیں عرب ممالک کو ایران سے ڈرایا گیا تاکہ امریکی اسلحے کی فروخت کا کاروبار چلتا رہے اور خطے میں اس کی فوجیں موجود رہیں، لیکن آج تک ایران نے کسی عرب ملک پر حملہ نہیں کیا،البتہ مشرق وسطیٰ میںقائم جن امریکی اڈو ں سے ایرانی سرزمین پر حملے ہوئے انہیں ضرور نشانہ بنایا گیا۔انقلاب اسلامی کے قیام کے ساتھ ہی ایران نے اپنی قوت کو مضبوط بنانے کے لئے اپنے ہم نواو ¿ں کی تعداد میں اضافہ کیا ،جو لبنان یمن عراق ، پاکستان اور دنیا میں بھی نظر آتے ہیں۔صیہونی ریاست اسرائیل کی عرب ممالک کے ساتھ 1948ء سے اب تک مجموعی طور پر چھ جنگیں ہوئیں،جن کے نتیجے میں اسرائیلی رقبے میں اضافہ ہوا اور عرب ممالک خاص طور مصر اور شام کے علاقوںپر اسرائیل نے قبضہ کرلیا۔شام کی جولان کی پہاڑیوں،اردن کے مغربی کنارے،بیت المقدس پر بھی اسرئیلی قبضہ ہو گیا۔ عربوں میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ اپنے علاقے واپس کرا سکتے۔عالمی حالات نے رخ بدلا، ایران بڑی دفاعی قوت کے طورپر ابھر کر سامنے آیا۔رواں جنگ سے پہلے اسرائیل نے موساد نیٹ ورک کے ذریعے ایران میں بے چینی پیدا کی، ٹرمپ کو باور کروایا گیا کہ چند دنوں میں اسلامی حکومت تبدیل کر سکتے ہیں۔اس کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے ایرانی عوام کومیڈیا کے ذریعے خطاب میں پیغام دیا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں ،چند دنوں میںجابرانہ آمرانہ’ آیت اللہ حکومت‘ کا خاتمہ ہو جائے گا، اقتدار ایرانی عوام کے پاس آ جائے گا۔ مہنگائی بیروزگاری کے نام پر اٹھنے والی عوامی شورش پر حکومت نے قابو پالیاگیاتو اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے امریکہ کے ساتھ مل کر اسرائیل نے تہران میں خوفناک حد تک شدید بمباری کی ،جس میں ایران کی اعلیٰ قیادت، ایٹمی سائنسدان، جرنیل، سیاستدان ،پاسداران انقلاب اورفوج کے اہم افراد کو شہید کر دیا گیا،باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ چند دنوں میں ’’رجیم چینج ‘‘کر دیں گے۔ لیکن ایرانی حکومت منتشر ہونے کی بجائے زیادہ طاقت کے ساتھ یکجا اور یکسو ہو گئی۔ امریکی حملوں کا تین چار گھنٹوںمیں جواب دیا۔ دفاعی اور سفارتی میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کیا اور پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ تین مہینوں کی جاری جنگ میں ایران کی استقامت کے بعد امریکہ اور اسرائیل کو اپنی شکست تسلیم کر لینی چاہیے تھی مگر انہوں نے اپنے سازشی حربوں کو جاری رکھا، مگریرانی قوم منتشر ہونے کے بجائے متحد اوریکجا ہوئی ، امریکہ کی بربادی تک جنگ جاری رکھنے کا اعلان سڑکوں پر آ کر کرتے رہے۔ الحمدللہ ایرانی قوم نے کربلا کے راستے پر چلتے ہوئے شہادت کو اپناشیوا بنایا اور دنیا کے سامنے دین اسلام کا روشن چہرہ پیش کیاہے،جس میں شہادت کو سینے سے لگانے پر فخر کیا جاتا ہے مگر اصولوں پر سمجھوتہ اوردشمن کے سامنے ہتھیار پھینکنا شامل نہیں۔40 دن کی جنگ میں زخم چاٹتے ہوئے امریکہ کو سیز فائر کا اعلان کرنا پڑا۔ہر کوئی جانتا ہے کہ امریکہ جیسی بڑی شیطانی قوت اوراس کی ناجائز اولاد اسرائیل کو ایرانی قوم کی جرات و بہادری، استقامت ،شجاعت ،ایثاراورجذبہ شہادت نے بے نقاب کر دیاہے۔ یہ بات تو ثابت ہوگئی ہے کہ امریکی صدرکی زبان اور اقدامات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا ،کبھی وہ کہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ پھر اسی لمحے کسی دوسرے کمرے جاکر ایران کو جنگ میں نیست و نابود کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔پھر اگلے ہی دن سفارتکاری کی آڑ میں کہتے ہیں ایرانی عظیم قوم ہیں ، لیکن مذاکرات میں ہم سے کچھ حاصل نہیں کر پائیں گے، ساتھ ہی کہتے ہیںجب تک مذاکرات نہیں ہوتے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رہے گی۔ اب تو امریکی کانگریس نے قرارداد کے ذریعے ڈونلڈ ٹرمپ کے پر کاٹ دیے ہیں، جنگ شروع کرنے کے اختیارات پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ دوسری طرف اب تو ایرانی قوم کہتی ہے امریکہ کو مشرق وسطیٰ خاص طور پر عرب خطے سے نکال کر دم لیں گے۔مجھے تو وہ دن بھی قریب نظر آرہے ہیں کہ جب حزب اللہ لبنان ، انصار اللہ یمن،اور عراق کی حشد الشعبی اورکتائب حزب اللہ متحد ہو کر شہید رہبر کی شہادت کا بدلہ لینے کے لیے آگے بڑھیں گے۔ 28 فروری کو تہران پر حملہ کیا گیا۔ رہبر شہید ہوگئے مگر حکومت تبدیل نہیں ہوئی۔ امریکہ کو سوچنا چاہیے حکومت تبدیلی کے اس کے دعوے کیسے ہوا ہوئے۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای شہید کے بعد ان کے تربیت یافتہ اور پاسداران انقلاب کے معاملات کودیکھنے والے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نئے رہبراعلیٰ منتخب کرلئے گئے، تو کیا ر جیم چینج ہو گئی؟ کیا امریکہ کامیاب ہو گیا؟
اکیلے ایران نے امریکہ اورپورے یورپ کو آگے لگا کر رکھا ہوا ہے، تو کیا رجیم چینج ہو گئی؟
اس وقت پوری دنیا میں امریکہ اور اسرائیل نفرت کی علامت بن چکے ہیں؟تو بتائیں کیا رجیم چینج ہو گئی؟
امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایرانی عوام کوآیت اللہ حکومت سے نجات دلائیں گے تو بتائیں کیا رجیم چینج ہو گئی؟
امریکہ کہہ رہا تھا کہ افزودہ یورینیم امریکہ لائی جائے گی،ایران کے پاس نہیں رہے گی، ایران نے انہیں آبنائے ہرمز میں مصروف کردیا ،تو بتائیں کیا ر جیم چینج ہو گئی؟
ایک رپورٹ کے مطابق اس جنگ کے دوران ایران نے مشرق وسطیٰ کے آٹھ ممالک میں 20 امریکی اڈوں پر شدید حملے کر کے اسے بھرپور نقصان پہنچایا تو کیا رجیم چینج ہو گئی ؟
آئندہ دنیا کو جنگ سے بچانے کے لئے ضروری ہوگیا ہے کہ ایران پر جنگ مسلط کرنے، میناب سکول کی بچیوں اور ایرانی قیادت کے قتل میںامریکی صدر کو جارح قراردینے کی قرارداد اقوام متحدہ میں پیش کی جائے۔لیکن حالات دیکھیںآج دنیا کا نقشہ اور سیاسی فضا بتا رہی ہے کہ ایران نے تعصبات ،تنگ نظری اور تکفیریت سے پاک اسلام پیش کیا ہے۔کئی ممالک امریکہ سے خوف کی وجہ سے ایران کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہے لیکن عالمی حالات کا دھارا بتا رہا ہے کہ امریکہ کا اس خطے سے اثر ورسوخ ختم ہونے والا ہے اور یہ مملکتیںآزادی محسوس کریں گی۔ ایران کی مذاکرات معطل کرنے کی دھمکی کے بعدٹرمپ نے لبنان پر مسلط جنگ بند کرانے کے لیے نیتن یاہو کے ساتھ جس طرح کی زبان استعمال کی ہے بتارہی ہے کہ عالمی منظر نامہ بدلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، جس میں اسلام کا بول بالا ہوگا،انشاء اللہ ،بہت جلد فلسطین کو بھی آزادی ملے گی۔