لاہور: سیشن عدالت نے وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست منظور کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کو بھجوائے گئے لیگل نوٹس کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی اجازت دے دی ہے۔
سماعت کے دوران وزیراعظم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ شہباز شریف نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کرنے سے قبل باقاعدہ لیگل نوٹس بھی بھجوایا تھا، جو اس مقدمے میں اہم قانونی حیثیت رکھتا ہے، لہٰذا اسے ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔تاہم، بانی پی ٹی آئی کے وکیل محمد حسین نے اس پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے ایسا کوئی نوٹس نہیں بھیجا، اور بغیر لیگل نوٹس کے یہ دعویٰ قابلِ سماعت نہیں۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد شہباز شریف کی استدعا منظور کرلی اور لیگل نوٹس کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ پاناما لیکس کے تناظر میں "10 ارب روپے کی پیشکش" کے الزام پر دائر کر رکھا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ الزام جھوٹا اور بے بنیاد تھا جس سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔