لاہور(نیٹ نیوز)صحرائے صحارا سے ملنے والی قدیم وہیل کی باقیات پر ہونے والی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ہزاروں سال قبل وہیل کے ہاتھ پاوں بھی تھے۔لائیو سائنس کی رپورٹ کے مطابق مصر میں ایک صحرائی مقام جسے ’وہیل ویلی‘ یا ’وادی الحیتان‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس میں 400 سے زیادہ قدیم وہیل کی باقیات موجود ہیں جو زمین سے سمندر تک وہیل کے شاندار ارتقائی سفر کو ظاہر کرتی ہیں۔یونیسکو کے مطابق وادی الحیتان کا تعلق دورِ ایوسین سے ہے جو کہ 55.8 ملین سے 33.9 ملین سال پہلے جب یہ علاقہ ٹیتھیس سمندر کے نیچے ڈوب گیا تھا۔یونیسکو نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا کہ اس وادی سے ملنے والی وہیل کی باقیات اس کی ارتقاء کی کہانی بیان کرتی ہیں اور ان پر کی جانے والی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ قدیم دور میں وہیل کا شمار زمین میں رہنے والے جانوروں میں ہوتا تھا۔وادی الحیتان میں پہلی بڑی دریافت 1902ء میں ہوئی تھی جب ماہرین حیاتیات نے وہیل کی ایک سابقہ آنامعلوم نسل بیسولوسورس آ ئسیس کا پتہ لگایا تھا۔