سندھ کابینہ نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ڈیجیٹل پراپرٹی رجسٹریشن کی منظوری دے دی ہے، جبکہ سمندر پار پاکستانیوں کی پراپرٹی رجسٹریشن آسان بنانے کے لیے رجسٹریشن ایکٹ 1908 میں ترمیم بھی منظور کر لی گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اب سیل ڈیڈ کی ایگزیکیوشن آن لائن ہو سکے گی۔ سندھ کے 49 سب رجسٹرار دفاتر نادرا سے منسلک ہیں، اور اوورسیز پاکستانی اب سفارتخانوں یا مشن جا کر ڈیڈز کی ایگزیکیوشن کر سکیں گے۔ڈیڈز ایگزیکیوشن کے لیے بائیومیٹرک ویری فکیشن کی گنجائش کے لیے رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیم کی گئی ہے۔ نادرا کے ساتھ مربوط ای رجسٹریشن سسٹم کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق ہوگی، اور سب رجسٹرار آفس یا پیپلز سروس سینٹر سے بائیومیٹرک تصدیق کرانے کی اجازت دی گئی ہے۔اجلاس میں سندھ کابینہ نے 342 ارب روپے کے بقایاجات کی وصولی کے لیے تصفیے کی تجویز پر بھی غور کیا، جس کے تحت مقدمات میں پھنسے 635 پٹیشنرز کے لیے فارمولا تیار کیا گیا ہے۔
تجویز کے مطابق 15 فیصد واجبات تین اقساط میں ادا کیے جائیں گے، جبکہ باقی رقم 12 سالانہ برابر اقساط میں ادا ہوگی، اور ادائیگیوں کا آغاز جولائی سے ہوگا۔مزید برآں، ٹیکس قوانین پر عمل کرنے والے اداروں کے لیے سیس کی شرح کم کر کے 0.8 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اور ایکسپورٹ سہولت اسکیم کے تحت دوبارہ برآمد ہونے والے سامان پر سیس کی مکمل چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سندھ کابینہ نے یہ تجاویز منظور کر کے صوبائی اسمبلی کو بھیج دی ہیں۔