القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کی درخواست غیر موثر ہونے پر خارج ‘ توشہ خانہ کیس میں بانی اور اہلیہ کی ضمانت منسوخی کی درخواستیں بھی خارج
سپریم کورٹ نے 9 مئی کو لاہور کے واقعات کیس میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر 3 رکنی بینچ بنانے کا حکم دے دیا
اسلام آباد (یواین پی) سپریم کورٹ کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی اور تحریک انصاف کے رہنما لطیف کھوسہ کی بانی سے ملاقات کی استدعا پر حکومت کو نوٹس جاری کر دیا۔دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے لطیف کھوسہ کو مخاطب کرکے کہا کہ ’بغیر نوٹس ایسا کوئی حکم نہیں دے سکتے، ابھی درخواست کے قابل سماعت ہونے کے اعتراض کی رکاوٹ کو عبور کرنا ہوگا، ذہن میں رکھیں آپ کے مقدمات دوسری عدالتوں میں زیرِ التوا ہیں، اس لیے بغیر نوٹس جاری کیے ملاقات سے متعلق کوئی آرڈر نہیں دے سکتے، یہ دیکھنا ہوگا کہ کیس غیر موثر ہو چکا یا ابھی چلایا جا سکتا ہے، ہمارے خیال میں یہ کیس غیر موثر ہو چکا ہے، 24 اگست 2023ء کا حکم نامہ تھا جس کے خلاف کیس آیا تھا‘۔وکیل لطیف کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ’مجھے تو میرے مؤکل سے ملاقات کی اجازت دی جائے‘، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’کل ملاقات سے متعلق بھی فیصلہ کریں گے، تاہم دوسرے فریق کو نوٹس کیے بغیر کوئی فیصلہ نہیں دیا جا سکتا، بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی‘۔ بتایا گیا ہے کہ برآں القادر ٹرسٹ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی ضمانت کی درخواست غیر مؤثر ہونے پر خارج کر دی گئی جب کہ عدالت نے توشہ خانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ضمانت منسوخی کی درخواستیں بھی غیر مؤثر ہونے پر خارج کردی ہیں، دوران سماعت عدالت نے 9 مئی لاہور واقعات میں عمران خان کی ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر 3 رکنی بنچ بنانے کا حکم دے دیا۔