سپریم کورٹ میں جاری جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے دوران ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں بیرسٹر گوہر علی خان اور بیرسٹر علی ظفر نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔
اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے بھی کارروائی میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کا مؤقف
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا:جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں 8 ججز کی تعیناتی کا فیصلہ ہونا تھا۔پی ٹی آئی نے 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستیں دائر کر رکھی ہیں، جو تاحال التواء کا شکار ہیں۔جب تک 26ویں آئینی ترمیم پر فیصلہ نہیں ہوتا، جوڈیشل کمیشن کا اجلاس مؤخر ہونا چاہیے تھا۔جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے بھی اجلاس مؤخر کرنے کا کہا تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا، جس کے باعث ہم نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔
بیرسٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ:جب تک سینیارٹی کے معاملے کا فیصلہ نہیں ہوتا، جوڈیشل کمیشن اجلاس کو مؤخر کیا جانا چاہیے۔سینیارٹی کا مسئلہ بھی زیرِ التواء ہے، لیکن ہمارا مطالبہ مسترد کر دیا گیا۔
ججز کا بائیکاٹ
ذرائع کے مطابق چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جاری ہے، لیکن جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔
دونوں ججز نے کمیشن کی کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔مطالبہ مسترد ہونے پر انہوں نے بائیکاٹ کر دیا۔یہ پیشرفت جوڈیشل کمیشن میں اختلافات کو مزید نمایاں کر رہی ہے اور مستقبل میں عدالتی تقرریوں اور فیصلوں پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔