کراچی کے علاقے لیاری موسیٰ لین میں شادی کی تقریب کے دوران ہوائی فائرنگ سے ڈھائی سالہ بچی حیا فاطمہ جاں بحق ہوگئی۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ گرفتار دولہا آفتاب اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ ملزم آفتاب کراچی پولیس چیف آفس میں تعینات پولیس اہلکار ہے۔پولیس کے مطابق، مقدمے میں 7 نامزد اور 4 نامعلوم افراد شامل ہیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ شادی کی تقریب میں ایس ایم جی، نائن ایم ایم، اور 30 بور ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی، جس کے شواہد کے طور پر متعدد خول برآمد کیے گئے ہیں۔ فائرنگ کا مقام اور بچی کی ہلاکت کی جگہ کے درمیان تقریباً 1 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ایس ایس پی سٹی عارف عزیز نے بتایا کہ فائرنگ میں ملوث دولہا کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ اس کے دوستوں کی تلاش جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہوائی فائرنگ کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی اور قانون کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
اس افسوسناک واقعے پر ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی سٹی کو ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے اور علاقے میں سرچ آپریشن کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے فارنزک شواہد کی مدد سے ملزمان کی نشاندہی اور سخت قانونی کارروائی کرنے کا بھی کہا ہے۔جاں بحق ہونے والی بچی کی نماز جنازہ رات ساڑھے 9 بجے کوثر مسجد میں ادا کی گئی، جس میں اہلِ علاقہ اور رشتہ داروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بعد ازاں، بچی کو کھارادر میرا ماں قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔