تحریرعبدالرزاق برق
دنیا کی سپرپاورملک امریکی ایوان نمائندگان کے 60سے زائداراکین نے امریکی صدرجوبائیڈن سے ایک خط کے زریعے بانی تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کے لئے اقدامات کامطالبہ کرتے ہوئے امریکی سفیرکی جیل میں ان سے ملاقات اورتمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لئے کوشش پرزوردیاہیے ایوان نمائندگان کے اراکین نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی اورجمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کے کے حوالے سے سخت ترین ایکشن لینے کامطالبہ بھی کیا ہیے پاکستانی سیکورٹی زرائع نے عمران خان کی حمایت کرنے والے 60ایوان نمائندگان کے بارے میں معلومات میڈیا پرسامنے آیا ہیے اس میں یہودی 9اسرائیلی نواز29ہندوستان نواز13ہم۔جنس پرستی کے حامی 50 اینٹی پاکستان 21اینٹی کشمیر2شامل ہیں امریکہ کے یہی ایوان نمائندگان یاکانگریس اسرائیل کوفنڈجاری کرنے کی پرزورحمایت کرتے ہیں اسرائیلی وزیراعظم کانگریس میں خطاب کرتے ہیے اگرچہ امریکی ایوان نمائندگان نے یہ خط ایسے ہی نہیں لکھ دیا ہیے اس کے پیچھے امریکی تھنک ٹیک کارفرماہوگا کیونکہ۔کسی معاملے پرایک دم یوٹرن نہیں لیتا بلکہ غیرمحسوس اندازسے پہلے کام شروع کردیتاہیے تاکہ دنیا کے سامنے اس کااصل چہرہ نہ آئے امریکہ کوشاہداندازہ ہوگیا کہ اب عمران خان ہی اقتدارمیں آنا ہیے اورمشکل میں تعلقات مذیدخراب نہ ہواس لئے اس نے اس حوالے سے کام شروع کردیا ہیے تاکہ بعدمیں اپنی ٹانگ اوپررکھ سکے کہ ہمارے دباوء کے باعث عمران رہاہوئے امریکی۔ایوان نمائندگان کے خط کے جواب میں پاکستان کے 160ارکان پارلیمنٹ نے بھی وزیراعظم شہبازشریف کوخط لکھ دیا ہیے لیکن خط لکھنے سے پہلے خود پارلیمان کے اندبحث کرنا چاہئے تھا خیر زیادہ ترسیاسی تجزیہ کاراس پرمتفق ہیں کہ یہ خط اورقراردیں لابنگ کی کوششوں کی علامت ہیں خاص طورپراس بات پر غورکرتے ہوئے یہ امریکہ میں انتخابی سال ہیے اورسیاسی نیٹ ورک اسلام آباد پردباوبڑھانے کے لئے اس عرصے کافائدہ اٹھارہیے ہیں دوسری طرف امریکی صدرکوایوان نمائندگان کے خط کواسلام آبادکی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا ہیے اوراس خط کو سفارتی آداب کی خلاف ورزی قراردے دیا ہیے اورپاکستان کے اندرونی معاملات پرتبصرے کرنا بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہیں اوریہ ملکی سیاسی منظرنامے کی غلط تفہم پرمبنی ہیں دفتر خارجہ کاردعمل پاکستان میں وسیع ترجذبات کی نشاندہی کرنا ہیے جہاں ملکی معاملات میں کسی بھی غیرملکی مداخلت کوشکوک وشہبات کا سامنا کرنا پڑتا ہیے پاکستان نے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مستحکم تعلقات برقراررکھنے کے لئے سخت محنت کی ہیے اورموجودہ حکومت نے اقتصادی اورسیاسی استحکام کویقینی بنانے اندرونی تنازعات کوکم کرنے اورعلاقائی روابط کو مضبوط بنانے کے لئے اہم پیش رفت کی ہیے بین الاقوامی گفتگومیں پی ٹی آئی رہنما کی قانونی پریشانیوں کی۔طرح پولرائزنگ کے طورپر کسی مسلے کوداخل کرنے سے اس پیش رفت کو کھولنے کاخطرہ ہییاگرچہ بین الاقوامی لابنگ مختصرمدت میں فائدہ مندہوسکتی ہیے لیکن یہ اندرونی تقسیم کوفروغ دے سکتی ہیے اورملک کے اندرتناو کوبڑھاسکتی ہیے یہ حربہ پی ٹی آئی کی گھریلو پوزیشن پربھی سائیہ ڈال سکتا ہیے کیونکہ یہ اندرونی تنازعات کوحل کرنے کے لئے ممکنہ طورپربیرونی حمایت پرانحصارکرنے والی جماعت کوپیش کرتا ہیے جس سے اس کی سیاسی ساکھ اورآزادی کمزورہوتی ہیے پاکستان میں اس وقت انسانی حقوق کے حوالے سے اورامریکہ کی پاکستان کے اندرسیاسی اوردیگرمعاملات میں مداخلت کے بارے میں دونوں ممالک کی۔طرف سے مبالغہ آرائی نظر آریا ہیں کیونکہ امریکی ایوان نمائندگان کی۔طرف سے امریکی۔صدرکو خط کے زریعے عمران خان کی رہائی کے لئے اقدامات کامطالبہ اورسیاسی قیدیوں کی رہائی کے لئے کوشش کرنے پرزوردینے سے پہلے پاکستان کے اندرمداخلت کے بارے میں سوال یہ پیداہوتا ہیے کہ بقول میڈیا کے جب پاکستان امریکہ کے ساتھ پاکستان میں رجیم۔چینج کرکے اس وقت کیوں خوش ہورہیے تھے؟ اورآج انہیں امریکی ایوان نمائندگان کی صدرجو بائیڈن کو خط لکھنا پاکستان کے اندرمداخلت دیکھائی دے رہیے ہیں اب اگرآج یہی امریکہ آرمی چیف کی تعریف کریں توپھراس میں انہیں کوئی۔برائی نظرنہیں آرہا اورجب بقول میڈیاکے امریکی سٹیٹ کی طرف سے پاکستان کے سابق پاکستانی وزیراعظم کوہٹانے حکم آیاتھا کیا وہ پاکستانی آئین اورقانون کے مطابق تھا؟ حیرت کی بات یہ ہیے کہ پاکستانی آئین اورقانون کی دھجیاں اڑانے والوں کوسفارتی آداب آج یاد آرہیے ہیں ؟ویسے پاکستان کے اندرونی معاملات میں ایک سپرپاورملک کی مداخلت کرنے کے بارے میں پاکستانی تاریخ میں آج تک یہ باتیں لکھی ہوئی ہیں کہ حافظ سعید پرپابندی لگانے کا حکم کس سپرپاورملک نے دیا تھا؟کارگل سے پاکستانی اہلکاروں کوواپس بلانے کاحکم کس کا تھا؟ بلوچستان کے اہم باشندہ ایمل خان کاسی کو صرف دس ہزارامریکی ڈالر کے عویض کس ملک کی کہنے پہ ڈیرہ غازیخان سے گرفتارکرکے کس نے؟ کس کو حوالے کیاگیاتھا؟پاکستانی بینکوں میں سودی کاروبار کارفروغ کس نے دیا ہیے؟کس کے کہنے پہ تعلیمی نصاب سے جہادکے بارے میں متعلقہ مواد کااخراج کیاگیا ؟کس کے کہنے پہ پاکستان کے ایک ہمسائیہ ملک ایران سے آج تک سستاگیس اورتیل نہ۔لینے دیاگیا؟روس سے اچھے تعلقات نہ رکھنے کا حکم کس نے دیا تھا؟ بھارت سے دوستی نہ کرنے کا فرمائیش کس کاتھا؟اپنے ہی ملک میں گیس بجلی مہنگا کرنا کس کا حکم تھا؟ یہ تمام باتیں پاکستان کے اندرمداخلت کرنے کاایک ثبوت ہیں پاکستانی تاریخ میں یہ بھی لکھا ہیے کہ ایک سپرپاورملک کے سامنے ہاتھ باندھ کرکھڑے ہوجاتے ہوں تب مداخلت نہیں ہوتی جب ان کے حکم پرپوراملک جنگ میں جھونک دیتے ہوتب مداخلت نہیں ہوتی؟ توپھرمداخلت کہاں ہوتی ہیے؟ ٹھیک ہے اگرکوئی سپرپاورملک پاکستانی معاملات اورسیاست میں مداخلت کرتے ہیں توانہیں چاہیے کہ وہ اس مداخلت کے خلاف عالمی عدالت سے رجوع کریں سوال یہ ہیے کہ خود عالمی۔عدالت کس سپرپاورملک کے ماتحت ہیے؟ جیسے اقوام متحدہ کس کے حکم پرچلتی ہیے؟ امریکی ایوان نمائندگان کی جانب سے پاکستان کے معاملات میں مداخلت اگرچہ سفارتی آداب کی خلاف ورزی سے زیادہ مضحکہ خیزطرزعمل اوراس کے مخصوص ایجنڈے کوظاہرکررہی ہیے حیرت انگیزبات یہ ہیے کہ پاکستانی قوانین کے تحت قیدایک سیاسی لیڈرکے معاملہ کی امریکیوں کواتنی تشویش ہیے کہ ان کے 60سے زائد آراکین پریشان ہیں لیکن دوسری جانب غزہ میں انسانوں کاقتل عام جاری ہیے وہاں اسرائیل۔نے انسانیت کا جنازہ نکال دیا گیا ہیے روزانہ۔بڑی تعداد میں بچے عورتیں اوربے گناہ شہری قتل ہورہیے ہیں انہی ایوان نمائندگان کواتنی جرات نہیں کہ ایک لفظ مذمت کا کہہ سکیں امریکہ اسرائیل کوفلسطین میں انسانی حقوق کی پاسداری نظرنہیں آرہی جنگی قوانین کی خلاف ورزی کررہیے ہیں اسکول ہسپتال پر حملے ہورہیے ہیں اس حملوں کے وقت۔انسانی حقوق کیوں یادنہیں؟ امریکہ۔اگر انسانی حقوق کااتنا بڑا علمبردارہیے تواسے فلسطین میں مسلمانوں پرظلم کیوں نظرنہیں آرہی لبنان پربمباری کرتے ہوئے انسانی حقوق کیوں نظرنہیں آتی ؟جہاں انکی مفادکونقصان پہنچتاہیے یہ وہی کھڑے ہوتے ہیں فلسطنیوں کے قتل عام کھلم کھلا اجازت دینے والوں کے منہ سے انسانی حقوق کی بات کرنازیب نہیں دیتا کیا فلسطین میں بسنے والے انسان نہیں ؟اورپاکستان میں قیدایک شخص انسان ہیے؟آخر کاامریکی ایوان نمائندگان کے ارکان کے دلوں میں وہ احساس دردعافیہ۔صدیقی کے لئے کیوں نہیں فلسطین کے قتل عام پر کیوں نہیں جبکہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں ٹانگ اڑانے سے بہترہیے کہ اپناقبلہ درست کریں اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت پاکستان کوچاہیے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریزکریں جن سے ملک کی جگ ہنسائی ہوتی ہو امریکیوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستان ایک آزادخودمختارریاست ہیے جہاں جیسابھی عدالتی نظام کام کررہا ہیے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت پہلے امریکیوں کو آئینہ ضروردیکھ لینا چاہئے کہ ملکی قوانین کے تحت ایک شخص زیادہ تشوشناک امرہیے یافلسطنیوں کی نسل کشی اگرواقعی انہیں انسانیت کا اتنا ہی خیال ہیے اورانسانی حقوق ان کا طرہ امتیازہیں توبسم اللی کریں غزہ کشمیراوردنیابھرکے مظلومین ان کے منتظرہیں لیکن وہ ایسا نہیں کرتا کیونکہ ان کا ایجنڈا پاکستان میں افراتفری پیداکرنا اورسیاسی تصادم کو بڑھاوادینا ہیے ایوان نمائندگان کوصرف عمران خان کے متعلق انسانی حقوق کیوں ان کویادآجاتی ہیں عمران نے توخود آبسلیوٹلی ناٹ کہاتھا انہوں نے کہا تھا کہ میں اپنی قوم کوامریکی ناجائزخواہشات کی بھنٹ نہیں چڑھاسکتا تھا اورمیں نے امریکہ کی غلامی کا چغہ آبسلیوٹلی کہہ کر قبول کرنے اورپہننے سے انکارکیاتھا اس لئے امریکہ نے میری حکومت گرائی ہیے میں مرسکتاہوں لیکن امریکہ سے عزت کی بھیک نہیں مانگ سکتا ہم کوئی غلام ہیں کہ امریکی حکمرانوں کی چغوں پربھٹیں رہیں اوراپنی آزادی کوامریکہ کے قدموں میں گرویی رکھ دویہ باتیں بانی پی ٹی آئی کے سربراہ نے 70سے زائد جلسوں میں پورے طمطراق کے ساتھ کرتے تھے اورپاکستان کے بچے بوڑھے جوان عورتیں اورہرشعبہ زندگی کے لوگ امریکہ کی۔نفرت میں بانی پی ٹی آئی کے ساڑھے تین سال کی حکومت سے نفرت کوبھول گئی امریکی نفرت کا ٹوکرا اپنے سروں پہ رکھ کر قیدی 804کے پچاس لاکھ گھروں اورایک کروڑ نوکریوں کے منافقت زدہ وعدے بھول گئے ایک دفعہ انہوں نے سنئیر قیادت سے سرعام یہ کہنا شروع کردیا کہ اب کسی نے اپنی میڈیا ٹاک یاپریس کانفرنس اورٹاک شومیں امریکن سائفراورامریکہ کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنی ہیے سائفراورمیموکے بارے میں امریکہ پرکوئی الزام تراشی نہیں کرنی عمران نے دوبار سیکورٹی کونسل کی میٹنگ کااعلامیہ بھی یہی کہا تھا کہ امریکہ نے ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہیے اورپھراپنی حکومت ختم ہونے کے چارماہ بعدہی بانی تحریک انصاف نے اپنی امریکہ کی تنظیم اوریہودی لابنگ فرموں کے زریعے امریکہ میں نئے چورن کو بجناشروع کردیا اوروہ تھا امریکہ سے دوستی کا تعلق اوررواداری جبکہ امریکہ میں ptiکی بڑھتی ہوئی حمایت کو کاونٹرکرنے کی کوشش اسلام آبادکے ایک تھنک ٹینک نے شروع کردی ہیے اس سلسلے میں امریکہ میں 1.5ملین ڈالرجوکہ ماہانہ 125000ڈالربنتے ہیں لابنگ فرم ہائیرکرلی گئی ہیے اطلاعات کے مطابق حکومت نے 42کروڑ روپے قومی خزانے سے خرچ کرکے یہ فرم ہائیرکی ہیے یعنی عوام کاپیسہ عوام کے ہی لیڈرکاراستہ روکنے کیلئے استعمال ہوں گے ناقدین پی ٹی آئی کے حامیوں کی طرف سے امریکی قانون سازوں سے کسی بھی اپیل میں ستم ظریفی کی نشاندہی کرتے ہیں عمران خان سب کے بعدامریکہ کے خلاف اپنے ماضی کے الزامات میں آوازاٹھاتے رہیے ہیں انہوں نے الزام لگایا کہ انہیں عدم اعتمادکے ووٹ کے زریعے ہٹانے کی سازش کی گئی ہیے اوراس میں ملوث افرادکوغدارقراردیاگیا ہیے یہ بھاری الزامات ہیں اورمذمت سے مددطلب کرنے کی اچانک تبدیلی نے بہت مبصرین کو پی ٹی آئی کی مسقل مزاجی پرسوال اٹھانے پرمجبورکردیا ہیے اس سارے معاملے میں ایک بڑی تشویش بھی ہیے اس طرح کے اقدامات سے پاکستان کے سفارتی توازن خراب کرنے کی صلاحیت ہیے جوحالیہ مہنیوں میں مشکل سے جیتی گئی ہیے سوال تو یہ بھی بنتا ہیے کہ امریکہ عمران کے لئے اتنے فکرمند کیوں ہیے؟ آخراسلامی ممالک ترکی سعودی عرب قطر دوبئی ان کے حق میں کیوں نہیں بولتے چین بھی نہیں بول رہیے ان کے حق میں اسلامی ممالک کو عمران خان اورپاکستانی سیاست سے اتنا دلچسپی نہیں جنتا امریکہ کو ہیے دنیاکی سپرملک کو اپنے مفاد کے لئے پاکستانی۔سیاست میں مداخلت کررہا ہیے جب اس کا مفاد پورا ہوجائے پھروہ کسی طرف کودیکھتا اوروہاں سے اپنے مفادات ڈھونڈ لیتے ہیں