گھریلو تشدد سے تنگ کم عمر دلہن کو شوہر کے قتل پر پھانسی دے دی گئی

 16 سال کی عمر میں 20 سال بڑے شخص کے ساتھ زبردستی شادی پر مجبور کیا گیا
رانا فراج کا وکیل لینے سے انکار ، ایسی زندگی سے آزاد کیا جائے جو موت جیسی تھی
تہران (آئی این پی )ایران میں ایک 24 سالہ خاتون رانا فراج اوغلی کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق رانا کو دو سال قبل اپنے شوہر کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، وہ کم عمری میں شادی، گھریلو تشدد اور مسلسل بدسلوکی کا شکار تھیں۔ انہیں 16 سال کی عمر میں اپنے سے تقریبا 20 سال بڑے شخص کے ساتھ جبرا شادی پر مجبور کیا گیا تھا۔منگل کو برطانوی خبر رساں ادارے نے اس حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی، جس کے مطابق رانا فراج کی سزائے موت پر عمل درآمد تبریز کی مرکزی جیل میں کیا گیا۔ انسانی حقوق کے گروہوں کا کہنا ہے کہ رانا نے عدالت میں وکیل لینے سے انکار کیا تھا اور صرف ایک درخواست کی تھی کہ انہیں ایک ایسی زندگی سے آزاد کیا جائے جو موت جیسی تھی