عادل بازئی کو نااہل کرنے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سمیت فریقین کو نوٹس جاری کردیئے،سماعت 12 دسمبر تک ملتوی 
کسی کو اسمبلی سے باہر نکال دینا معمولی کارروائی نہیں لہذا ہرپہلو کو دیکھنا ہوگا:جسٹس منصور علی شاہ 
اسلام آباد(آئی این پی )سپریم کورٹ کے ریگولر بینچ نے عادل بازئی کو ڈی سیٹ کرنے کا 21 نومبر کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کر دیا۔جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ جسٹس عقیل عباسی اور جسٹس عائشہ ملک بھی تین رکنی بینچ کا حصہ تھیں۔دوران سماعت، عادل بازئی کے وکیل تیمور اسلم نے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے کا حوالہ دیا۔جسٹس منصور علی شاہ نے مسکراتے ہوئے تیمور اسلم سے مکالمہ کیا کہ او ہو کیا آپ واقعی مخصوص نشستوں کے فیصلے پر انحصار کرنا چاہتے ہیں۔ جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ اب تو وہ کہتے ہیں ترمیم بھی آچکی ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کیا مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عمل درآمد ہو چکا ہے، بہرحال چلیں آگے بڑھیں۔جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا آپ اس کیس میں مخصوص نشستوں کے فیصلے پر انخصار کر سکتے ہیں، کیا عادل بازئی مخصوص نشستوں والے 81 ممبران کی فہرست کا حصہ تھے۔ریگولر بینچ نے ریمارکس دئیے کہ عدالت میں بتایا گیا الیکشن کمیشن ڈیکلریشن نہیں دے سکتا، عدالت کو بتایا گیا امیدوار کا تعلق کس جماعت سے ہے یہ تعین کرنا سول کورٹ کا کام ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ پہلے الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کا معاملہ طے کریں، کسی کو اسمبلی سے باہر نکال دینا معمولی کارروائی نہیں لہذا پر پہلو کو دیکھنا ہوگا۔عدالت نے این اے 262 کوئٹہ سے برطرف عادل بازئی کی اپیل ابتدائی سماعت کے لیے منظور کر لی۔سپریم کورٹ ریگولر بینچ نے الیکشن کمیشن سمیت فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کر دی۔