مکیش امبانی کو اپنا 15 ہزار کروڑ روپے کا بنگلہ اینٹیلیا خالی کرنے کا خطرہ

مکیش امبانی کو اپنا 15 ہزار کروڑ روپے کا بنگلہ اینٹیلیا خالی کرنے کا خطرہ

دنیا بھر کی امیر ترین شخصیات میں شامل بھارتی تاجر مکیش امبانی اور نیتا امبانی کو ممکنہ طور پر اپنے 15 ہزار کروڑ روپے مالیت کے بنگلے اینٹیلیا کو خالی کرنا پڑ سکتا ہے۔

بھارتی حکومت کا قانون:
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے حال ہی میں منظور ہونے والے قانون "وقف ترمیمی بل" کے تحت مکیش امبانی کو اپنا بنگلہ خالی کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

اینٹیلیا کی تعمیر اور قانونی مسائل:
مکیش امبانی اور نیتا امبانی کا یہ 5 ارب ڈالرز کا پُر تعیش بنگلہ ممبئی میں واقع ہے، اور یہ زمین اس سے پہلے یتیم خانہ کے لیے وقف کی گئی تھی، جسے چیریٹیبل ٹرسٹ کے تحت چلایا جاتا تھا۔ بھارتی سیاسی رہنما اسد الدین اویسی کا کہنا ہے کہ اینٹیلیا وہ زمین پر بنایا گیا تھا جو اصل میں وقف ٹرسٹ کی تھی۔

زمین کا متنازعہ پس منظر:
یہ زمین 1986ء میں کریم بھائی ابراہیم نے وقف بورڈ کو عطیہ کی تھی، تاہم 2002ء میں مہاراشٹر حکومت کے شدید دباؤ پر بورڈ نے اس زمین کو مکیش امبانی کو بیچ دیا تھا، حالانکہ اسلامی قانون کے مطابق وقف جائیداد کو فروخت یا منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ اس غیر قانونی خرید و فروخت کا مقدمہ اس وقت بھارتی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

تعمیرات اور عالمی شہرت:
2006ء سے 2010ء کے دوران، امریکی آرکیٹیکچرل فرم نے اینٹیلیا کی ڈیزائن اور تعمیر کی، اور یہ اب دنیا کی سب سے مہنگی اور مشہور نجی رہائش گاہوں میں شمار ہوتی ہے۔مکیش امبانی کے اس بنگلے کے حوالے سے قانونی مسائل نے ایک نیا پیچیدہ پہلو پیدا کر دیا ہے، اور اس سے ان کی جائیداد کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔