بھارتی سیاست اور مسلمانوں کے حوالے سے ایک نیا پہلو پیش کرتی ہے۔
بھارتی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے ورثے اور تاریخ کے حوالے سے منفی بیانیے کی تشہیر ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ اورنگزیب کے مزار کو نشانہ بنانا اور اس کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز پراپیگنڈا پھیلانا ایک بڑی سیاسی چال کے طور پر سامنے آیا ہے۔تاریخی حقیقتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا اور مسلمان حکمرانوں کے بارے میں منفی تصورات پھیلانا مودی حکومت کی حکمت عملی کا حصہ بن چکا ہے، جس کا مقصد صرف مسلمانوں کی شناخت کو مٹانا نہیں بلکہ پورے ملک میں ان کے خلاف نفرت پیدا کرنا ہے۔ اس کے اثرات نہ صرف مسلمانوں پر بلکہ ملک کی جمہوریت اور آئین پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
اس وقت بھارت میں مسلم ورثے پر حملے ایک طویل سلسلے کا حصہ ہیں جس میں بابری مسجد، تاج محل، اور دیگر اہم مقامات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وقف بورڈ جیسے قوانین اور دیگر اقدامات مسلمانوں کے حقوق کو متاثر کر رہے ہیں۔یہ صورتحال بھارت میں بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم، تشویش اور تشویش کو مزید بڑھا رہی ہے، جس پر عالمی سطح پر بھی تبصرے اور اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔