سویلین کا ٹرائل فوجی عدالتو ں میں کیسے؟یہ سوال دماغ میں اٹکا ہوا ہے جسٹس جمال مندوخیل

آئین کے تحت جو قوانین ہیں ان میں بنیادی حقوق لاگو نہیں ہوتے،وہ قانون  کالعدم  قرار  نہیں  دیئے جا سکتے:ریمارکس
اگر سویلینز پر بھی آئین کے آرٹیکل 8(3)اے کا اطلاق ہوتا ہے،ان  کو بھی بنیادی حقوق حاصل نہیں ہوں گے:وکیل خواجہ حارث 

اسلام آباد( آن لائن)سپریم کورٹ آئینی بنچ میں فوجی عدالتوں کے کیس میں جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ کلاز ڈی کے ہوتے سویلینز کا فوجی عدالتوں میں کیسے ٹرائل کیا جاسکتا ہے،یہی وہ سوال ہے جو میرے دماغ میں اٹکا ہوا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 8(3)اے کے تحت جو قوانین ہیں ان میں بنیادی حقوق لاگو نہیں ہوتے، اس کے تحت وہ قانون بنیادی حقوق کے تناظر میں کالعدم نہیں قرار دیئے جا سکتے،1962کے آئین میں آرٹیکل 6اور1973کے آئین میں آرٹیکل 8ہے،ایف بی علی کیس میں کہا گیا کہ آرمڈ فورسز کے ممبران پر بنیادی حقوق لاگو نہیں ہوتے جبکہ خواجہ حارث ایڈووکیٹ نے اپنے دلائل میں کہا ہے کہ آپ فرض کریں کہ اگر سویلینز پر بھی آئین کے آرٹیکل 8(3)اے کا اطلاق ہوتا ہے،ان سویلینز کو بھی بنیادی حقوق حاصل نہیں ہوں گے،اس تناظر میں تو سپریم کورٹ میں یہ 184(3)کی درخواست ہی ناقابل سماعت تصور ہوگی۔انھوں نے یہ دلائل منگل کے روزدیے ہیں۔بدھ کوبھی وہ اپنے جواب الجواب دلائل جاری رکھیں گے۔ سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی،جسٹس نعیم اختر افغان نے کہاکہ ایف علی کیس کافیصلہ 1962کے آئین کے تحت ہوا، ایف بی علی کیس کو 1973کے ا?ئین کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے کہاکہ ایف بی علی کیس میں جس پیراگراف کو بنیاد بناکر دلائل دیئے جاتے رہے وہ بے اثر ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ اس کا مطلب ہے کہ آپ بھی ایف بی علی کیس کو چیلنج کررہے ہیں،خواجہ حارث نے کہاکہ سپریم کورٹ کے جس فیصلہ کیخلاف اپیل سنی جارہی ہے اس میں بھی یہی درج ہے، ایف بی علی کیس میں کہا گیا تھا کہ فوجی ٹرائل ٹھیک ہے اور فیئرٹرائل کا حق ملتا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 8(3)اے کے تحت جو قوانین ہیں ان میں بنیادی حقوق لاگو نہیں ہوتے، اس کے تحت وہ قانون بنیادی حقوق کے تناظر میں کالعدم نہیں قرار دیئے جا سکتے،1962کے آئین میں آرٹیکل 6اور1973کے آئین میں آرٹیکل 8ہے،ایف بی علی کیس نے کہا کہ آرمڈ فورسز کے ممبران پر بنیادی حقوق لاگو نہیں ہوتے،عدالت نے کہا کہ ایف بی علی کیس کلاز ڈی کی بات کرتا جس کے تحت سویلین کو بنیادی حقوق حاصل ہوں گے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ کلاز ڈی کے ہوتے سویلینز کا فوجی عدالتوں میں کیسے ٹرائل کیا جاسکتا ہے،یہی وہ سوال ہے جو میرے دماغ میں اٹکا ہوا ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ آپ فرض کریں کہ اگر سویلینز پر بھی آئین کے آرٹیکل 8(3)اے کا اطلاق ہوتا ہے،ان سویلینز کو بھی بنیادی حقوق حاصل نہیں ہوں گے،اس تناظر میں تو سپریم کورٹ میں یہ 184(3)کی درخواست ہی ناقابل سماعت تصور ہوگی