یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں جنگ کی شدت دوبارہ بڑھ گئی ہے۔
تازہ ترین جھڑپوں میں دونوں فریقین کی جانب سے مختلف حملے اور جوابی کارروائیاں کی گئی ہیں، جن سے علاقائی سلامتی اور عالمی بحری تجارت کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز نے حوثیوں کے خلاف تیز اور منظم کارروائیاں شروع کی ہیں، جن میں انہوں نے حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری طرف، حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں تازہ فضائی حملے کیے ہیں، جن میں 32 فضائی حملے شامل ہیں۔ حوثی میڈیا کے مطابق، یہ حملے ماریب، الجوف، تعز اور الحدیدہ صوبوں میں کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ان کے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے ایک دن بعد کی گئی ہیں۔حوثیوں نے حال ہی میں سعودی عرب کے جنوبی شہروں کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں سعودی حکام کا کہنا ہے کہ 73 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے جواب میں سعودی عرب نے بھی حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کیے ہیں۔ اس دوران، یمن کے مغربی ساحل اور تعز کے اطراف میں بھی حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان شدید لڑائیاں جاری ہیں۔
یہ حالیہ کشیدگی 2022 میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے یمن میں ہونے والی سب سے شدید لڑائی سمجھی جا رہی ہے۔ اس لڑائی سے یمن میں وسیع جنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں، اور علاقائی سطح پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ خاص طور پر، بحیرہ احمر اور باب المندب کے قریب جاری لڑائی سے علاقائی سلامتی اور عالمی بحری تجارت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ علاقے اہم تجارتی راستے ہیں۔موجودہ صورتحال نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، اور امن قائم کرنے کے لیے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی کوششیں جاری ہیں، مگر ابھی تک کوئی مستقل حل نظر نہیں آ رہا ہے۔ یمن کی یہ لڑائی انسانی بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے، جہاں لاکھوں لوگ بے گھر اور بے روزگار ہیں اور امدادی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔