شیشہ کیفوں کی بندش کا معاملہ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے انتظامیہ سے وضاحت طلب کر لی

شیشہ کیفوں کی بندش کا معاملہ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے انتظامیہ سے وضاحت طلب کر لی

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شیشہ کیفوں پر پابندی کے فیصلے کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضلعی انتظامیہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا، تاہم عدالت نے درخواست گزاروں کو فوری ریلیف دینے سے گریز کیا اور سنگل بنچ کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس ایاز شوکت پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ شیشہ کیفوں پر پابندی سے متعلق سنگل بنچ کے فیصلے کو فوری طور پر معطل کیا جائے تاکہ کاروباری سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔درخواست گزاروں کے وکیل عادل عزیز قاضی نے مؤقف اختیار کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شیشہ کیفوں کو این او سیز جاری کیے گئے تھے، جن کی بنیاد پر کاروباری افراد نے کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ درخواست گزاروں کو جاری کردہ این او سیز کے تحت کاروبار جاری رکھنے کی اجازت دی جائے کیونکہ انہوں نے انتظامیہ کی منظوری کے بعد بھاری سرمایہ کاری کی تھی۔سماعت کے دوران جسٹس انعام امین منہاس نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سنگل بنچ کے فیصلے سے پہلے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کا ایک فیصلہ موجود تھا، جس میں شیشہ کیفوں کے حوالے سے قواعد و ضوابط بنانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ جب شیشہ کیفوں پر پابندی عائد تھی تو ضلعی انتظامیہ کی جانب سے این او سیز کیسے جاری کیے گئے؟ عدالت نے مزید آبزرویشن دی کہ نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں، انتظامیہ کا جواب آنے کے بعد جائزہ لیا جائے گا کہ قواعد و ضوابط بنائے بغیر شیشہ کیفوں کو این او سیز کس بنیاد پر جاری کیے گئے۔جسٹس انعام امین منہاس نے مزید ریمارکس دیے کہ اس معاملے پر ہائیکورٹ کے پہلے ہی دو فیصلے آ چکے ہیں، جنہیں چیلنج نہیں کیا گیا، جبکہ شیشہ کیفوں کے حوالے سے اب تک مطلوبہ قواعد و ضوابط بھی تشکیل نہیں دیے گئے۔عدالت نے قرار دیا کہ ضلعی انتظامیہ کے جواب کے بعد اس معاملے کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ تاہم ابتدائی سماعت میں درخواست گزاروں کو فوری ریلیف فراہم نہیں کیا گیا۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیل پر ضلعی انتظامیہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا اور مزید سماعت ملتوی کر دی۔