ویب ڈیسک: سوات اور اس کے گرد و نواح میں آج زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے باعث شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
زلزلے کے دوران لوگ گھروں اور دفاتر سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے کھلے مقامات پر نکل آئے۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4.2 ریکٹر اسکیل پر ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی زیرِ زمین گہرائی 155 کلومیٹر تھی۔ مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز ہندوکش پہاڑی سلسلہ تھا جو دنیا کے زلزلہ خیز ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے۔تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ تاہم مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
زلزلے کیوں آتے ہیں؟
زلزلے ایک قدرتی آفت ہیں جن کے نتیجے میں دنیا بھر میں لاکھوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زمین کی بڑی تہہ تین اہم پلیٹوں پر مشتمل ہے:
یوریشین پلیٹ
انڈین پلیٹ
عربین پلیٹ
جب زیر زمین حرارت کے باعث یہ پلیٹیں حرکت کرتی ہیں تو زمین ہلنے لگتی ہے، یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں طرف پھیلتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے وہ علاقے جہاں یہ پلیٹیں آپس میں ٹکراتی ہیں یا سرکتی ہیں، وہاں زلزلوں اور آتش فشانی سرگرمیوں کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ پاکستان کا تقریباً دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر واقع ہے، اسی لیے یہاں کسی بھی وقت زلزلے کا خطرہ رہتا ہے۔
پاکستان میں زلزلہ خیزی کی صورتحال
پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے، جہاں یہ پلیٹ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے۔ انڈین پلیٹ کے مسلسل آگے بڑھنے اور یوریشین پلیٹ کے دھنسنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے، جس کی وجہ سے خطہ ہمیشہ زلزلے کے خدشے میں رہتا ہے۔کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک بیشتر علاقے زلزلہ خیز ہیں۔ ان میں سب سے حساس علاقے کشمیر اور گلگت بلتستان شمار کیے جاتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور ماہرین کے مطابق زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔