امریکا میں 65 برس بعد سابق فوجی میجر کی سزائے موت لائیو اسٹریم کرنے کا فیصلہ

امریکا میں 65 برس بعد سابق فوجی میجر کی سزائے موت لائیو اسٹریم کرنے کا فیصلہ

امریکی ریاست ٹیکساس میں فوجی تنصیب فورٹ ہڈ میں 2009 کے مہلک فائرنگ واقعے میں ملوث ندال ملک حسن کی سزائے موت براہِ راست نشر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ گزشتہ 65 سال سے زائد عرصے میں پہلی فوجی سزائے موت ہوگی جسے عوام کے سامنے نشر کیا جائے گا۔امریکی فوج کے مطابق ندال ملک حسن کو 3 دسمبر کو فورٹ ہڈ میں سزائے موت دیے جانے کا منصوبہ ہے۔ حسن کو 2009 میں فوجی اڈے پر فائرنگ کے واقعے میں 13 افراد کو ہلاک اور 32 دیگر کو زخمی کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایک ٹی وی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکام اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ لوگ اس سزا کو دیکھ سکیں۔ ان کے مطابق سزا کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔پینٹاگون کے حکام نے بھی بتایا ہے کہ سزائے موت کو براہِ راست نشر کرنے کا منصوبہ زیرِ غور ہے، جبکہ اس حوالے سے مزید تفصیلات بعد میں سامنے آنے کی توقع ہے۔

دوسری جانب قانونی ماہرین کے مطابق ندال ملک حسن کے پاس سزا کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے بعض راستے موجود ہو سکتے ہیں۔ وہ شہری عدالت سے رجوع کرنے یا اپنی حراست اور سزا کی قانونی حیثیت پر نظرثانی کے لیے درخواست دائر کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔فورٹ ہڈ فائرنگ کا واقعہ امریکی فوجی تاریخ کے سنگین واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ اس مقدمے اور سزائے موت کو براہِ راست نشر کرنے کے منصوبے پر مزید پیش رفت آئندہ دنوں میں سامنے آنے کا امکان ہے۔