لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو جیل میں ادویات، کپڑوں، کتابوں اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی سے متعلق رپورٹ طلب کر لی۔
عدالت نے واضح کیا کہ جیل میں صرف وہی اشیاء فراہم کرنے کی اجازت دی جائے گی جن کے بارے میں باقاعدہ حکم جاری کیا جائے گا۔جسٹس عبہر گل خان نے علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز کی درخواست پر سماعت کی۔ اس موقع پر درخواست گزار کی جانب سے وکیل رانا مدثر عمر عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران جیل میں موجود خواتین کو بنیادی ضروریات کی فراہمی اور ان کی نظر بندی کے معاملے پر دلائل دیے گئے۔سماعت کے دوران جسٹس عبہر گل خان نے ریمارکس دیے کہ کپڑے اور ادویات فراہم کی گئی تھیں، تاہم بعد میں باہر آ کر کہا گیا کہ کچھ نہیں دیا گیا۔ اس پر وکیل رانا مدثر عمر نے وضاحت کی کہ انہوں نے یہ کہا تھا کہ مذکورہ اشیاء عدالتی حکم پر فراہم کی گئیں۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو ادویات، کپڑے اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کرنے کے لیے متفرق درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔وکیل نے استدعا کی کہ نورین نیازی کو ادویات اور کپڑوں کے علاوہ کتابیں اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کرنے کا حکم بھی جاری کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ 19 روز گزرنے کے باوجود ادویات اور کپڑے فراہم نہیں کیے گئے۔ اس پر عدالت نے ہدایت کی کہ مطلوبہ اشیاء کی فہرست باقاعدہ طور پر پیش کی جائے تاکہ عدالت ان کے بارے میں مناسب حکم جاری کر سکے۔
جسٹس عبہر گل خان نے ریمارکس دیے کہ عدالت صرف انہی اشیاء کی فراہمی کا حکم دے گی جن کی واضح نشاندہی کی جائے گی۔ وکیل رانا مدثر عمر نے ادویات، کپڑوں، کتابوں اور کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرنے کی استدعا کی، تاہم عدالت نے کھانے پینے کی اشیاء کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے متفرق درخواستوں پر رپورٹ طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔دورانِ سماعت وکیل نے نظر بندی کے خلاف مرکزی درخواستوں پر بھی سماعت کی استدعا کی۔ اس پر عدالت نے کہا کہ پہلے ادویات اور کپڑوں کی فراہمی کا معاملہ حل کیا جائے، اس کے بعد مرکزی درخواستوں پر بھی سماعت کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے وکیل سے یہ بھی کہا کہ وہ فیصلہ کر لیں کہ پہلے متفرق درخواستوں پر دلائل دینے ہیں یا مرکزی درخواستوں پر۔
بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف درخواستوں پر مزید کارروائی 12 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔