بیان بازی بند، ن لیگ ،پی پی میں ایکا

 لیگی وفد کی ملاقات ،اپنی پارٹی کے لوگوں کو سمجھائیں، معاملات خراب نہیں کرنا چاہتے: صدرزرداری 
کراچی (خصوصی رپورٹ)مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی بیان بازی روکنے پر رضا مند ہو گئے ملاقات میں ن لیگ کی طرف سے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور اسحاق ڈار شریک ہوئیصدر آصف زرداری نے کہا اپنی پارٹی کے لوگوں کو سمجھائیں،نہیں چاہتے کہ معاملات خراب ہوں ،حکومتی وفد کی صدر مملکت سے ملاقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی بیان بازی روکنے پر رضامند ہوگئے۔پنجاب حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلیے مسلم لیگ ن اور وفاقی حکومت کا وفد صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملنے زرداری ہاؤس نواب شاہ پہنچا۔وفد میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی شامل تھے۔ صدر زرداری سے ملاقات میں پنجاب اور سندھ حکومت کے درمیان حالیہ کشیدگی سے متعلق مختلف امور زیر غور آئے۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے حکومتی وفد سیکہا کہ اپنی پارٹی کیلوگوں کوسمجھائیں، ہم نہیں چاہتیکہ معامالات خراب ہوں۔ ن لیگی کمیٹی کی جانب سے کہا گیا کہ پیپلز پارٹی کی طرف سے بھی بیان بازی بند ہونی چاہیے۔ذرائع نے بتایا کہ حکومتی وفد اور صدر مملکت کی ملاقات میں اتفاق ہوا کہ کسی بھی بڑے ایشو پر بات کرنے سے پہلے ایک دوسریکاموقف سْناجائیگا۔سیاسی بیانات کی بنا پر تعلقات خراب نہیں ہونے چاہییں ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اسحاق ڈار نے اہم کردارادا کیا، اسحاق ڈار کی دبئی رہائش گاہ پر بینظیربھٹو اور نوازشریف کی بھی ملاقات ہوتی تھیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صدرزرداری نے اسحاق ڈار کے ساتھ ہمیشہ کی طرح انتہائی تعاون کیا، اسحاق ڈار نے پارٹی رہنماؤں کی جانب سیجاری بیان بازی روکنیکی بات کی اور صدر زرداری نے اتفاق کیا کہ بیان بازی فوری طورپر روکی جانی چاہیے۔گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعت پیپلزپارٹی کے تحفظات افہام وتفہیم سے دور کرنے کی ہدایت کی تھی۔ وزیراعظم کا کہنا تھاکہ سیاسی بیانات کی بنا پر پیپلزپارٹی سے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہییں۔یاد رہے کہ گزشتہ کئی روز سے مریم نواز کے بیان پر پنجاب اور سندھ حکومت کے درمیان ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری جاری تھی۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیان پر پیپلز پارٹی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا اور قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کرتے ہوئے مریم نواز سے اپنے بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ اگر کوئی پنجاب کے خلاف بات کرے گا تو بطور وزیر اعلیٰ میں اسے جواب ضرور دوں گی اور صوبے کے عوام کا تحفظ کروں گی، کسی سے معافی نہیں مانگوں گی۔