ہروپ ڈرون میں 9گھنٹے تک ہدف کا پیچھا کرنے اور نشانہ بنانے کی صلاحیت

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان نے گزشتہ روز بھارت کے 29ہروپ ڈرون مارگرائے،ہروپ اسرائیلی ڈرون ہے جسے اسرائیل ایروسپیس انڈسٹریز نے بنایا ہے۔ ہروپ ہائی لیول اہداف جنگی کشتیوں، کمانڈ پوسٹس، سپلائی ڈپو، ٹینکس اور ایئر ڈیفنس سسٹمز کو نشانہ بنانے اورکسی بھی علاقے میں تقریباً نو گھنٹے تک اپنے ہدف کا پیچھا کرنے اور اس کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ہروپ میں گائیڈڈ ویپن سسٹم نصب ہوتا ہے جس کا مشن اس کا آپریٹر کنٹرول کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اس مشن کو روکابھی جا سکتا ہے۔ ہروپ ڈرون کی رفتار 225 ناٹس ہے اور یہ اپنے آپریٹر سے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر دور تک پرواز کر سکتا ہے جبکہ اس میں 23 کلوگرام تک دھماکا خیز مواد لے جانے کی صلاحیت موجود ہے۔ ہروپ ڈرونز کو کسی لانچر کی مدد سے ہوا میں چھوڑا جاتا ہے، اس میں الیکٹرو آپٹیکل سینسرز نصب ہیں جو کسی بھی حرکت کرتے ہدف کی نگرانی کرنے کے ساتھ ساتھ ریڈارز کو بند کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ہروپ ڈرون کو کسی بھی مشتبہ بیلسٹک میزائل سائٹ پر میزائل سائلوز کو نشانہ بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پاکستانی فضائیہ کے ریٹائرڈ ایئر کموڈور اور اسلام آباد کی ایئر یونیورسٹی سے منسلک ڈاکٹر عادل سلطان کا دعویٰ ہے کہ انڈیا کی جانب سے بھیجے گئے ڈرون کسی بھی ایئر ڈیفنس سسٹم کو تباہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔بھارتی وزارت دفاع نے 2019 میں فضائیہ کو اسرائیل سے 54 ہیروپ ڈرونز خریدنے کی اجازت دی تھی جس کی اس وقت کْل قیمت 100 ملین ڈالر تھی۔