یوکرینی حملوں میں روسی توانائی بحران ، ڈیزل کی برآمدات پر پابندی

یوکرینی حملوں میں روسی توانائی بحران ، ڈیزل کی برآمدات پر پابندی

ماسکو: روس نے اپنی آئل ریفائنریز پر حالیہ یوکرینی حملوں کے بعد مقامی ایندھن کی سپلائی بہتر بنانے کے لیے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کر دی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین کی جانب سے روسی تیل کی تنصیبات پر مسلسل ڈرون حملوں کے باعث پٹرول اور ڈیزل کی پیداوار و فراہمی متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں ایندھن کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔رپورٹس کے مطابق روس کے متعدد علاقوں میں شہریوں کو پٹرول پمپس پر ایندھن کے حصول کے لیے طویل قطاروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے باعث ڈیزل اور پٹرول کی سپلائی دباؤ کا شکار ہے۔روسی نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے صدر ولادیمیر پیوٹن کی زیر صدارت اجلاس میں بتایا کہ ملک میں ایندھن کی صورتحال پیچیدہ ہو چکی ہے اور فلنگ اسٹیشنز کی موجودہ صورتحال عوام میں تشویش کا باعث بن رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیزل کی برآمدات پر پابندی سے مقامی مارکیٹ میں ایندھن کی دستیابی بہتر بنانے میں مدد ملے گی، جبکہ روس جولائی میں ایندھن کی درآمد شروع کرنے کا بھی منصوبہ رکھتا ہے۔ یہ پابندی 31 جولائی تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔واضح رہے کہ صنعتی ذرائع کے مطابق روس نے حال ہی میں بھارت سے سمندری راستے کے ذریعے پٹرول کی درآمد بھی شروع کی ہے تاکہ مقامی ضروریات پوری کی جا سکیں۔