کراچی: انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مصطفیٰ عامر قتل کیس میں شریک ملزم شیراز بخاری کی درخواستِ ضمانت پر پراسیکیوشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک کارروائی ملتوی کر دی۔
کراچی سینٹرل جیل میں قائم انسداد دہشت گردی کمپلیکس کی خصوصی عدالت میں کیس کی سماعت ہوئی، جہاں جیل حکام نے مرکزی ملزم ارمغان اور شریک ملزم شیراز بخاری کو عدالت میں پیش کیا۔سماعت کے دوران ملزم ارمغان کی والدہ نے اپنے وکیل پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے عدالت میں وکیل کی تبدیلی کی درخواست دائر کی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں موجودہ وکیل پر اعتماد نہیں، اس لیے نیا وکیل مقرر کرنے کی اجازت دی جائے۔اس موقع پر ملزم ارمغان نے بھی عدالت کے روبرو جیل حکام پر تشدد اور اپنی بیرک میں آگ لگنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ جیل عملہ اس پر تشدد کرتا ہے اور گالیاں دیتا ہے۔
دوسری جانب شریک ملزم شیراز بخاری نے عدالت میں کہا کہ ارمغان جیل میں اکثر خود سے باتیں کرتا رہتا ہے۔بعد ازاں شیراز بخاری کے وکیل خواجہ عظیم نے درخواستِ ضمانت دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کا مقدمے سے کوئی تعلق نہیں، نہ ہی تفتیش میں اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی ملزم ارمغان نے شیراز کو محض ایک "ٹول" کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی۔عدالت نے درخواستِ ضمانت پر پراسیکیوشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا اور مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔