کے ٹو ایئرویز کے کارگو طیارے کے حادثے کی تحقیقات بیورو آف ایئر سیفٹی انویسٹیگیشن (BSI) کی خصوصی ٹیم کی نگرانی میں جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن بھی تاحال جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم آج دوپہر کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچ کر کے ٹو ایئرویز کے فلائٹ آپریشن دفتر سے مزید ریکارڈ کا جائزہ لے گی۔ اس سلسلے میں ایئرپورٹ پر موجود کے ٹو ایئرویز کے چار دفاتر کو سیل کر کے بیورو آف ایئر سیفٹی انویسٹیگیشن کی تحویل میں دے دیا گیا ہے تاکہ تحقیقات کے لیے تمام متعلقہ ریکارڈ محفوظ رکھا جا سکے۔تحقیقاتی حکام طیارے کے آپریشنل ریکارڈ، مینٹیننس لاگز، فلائٹ پلان، عملے کی تفصیلات اور دیگر اہم دستاویزات کا تفصیلی معائنہ کریں گے۔ ذرائع کے مطابق حادثے کے مقام سے حاصل ہونے والے شواہد اور ایئرلائن کے ریکارڈ پر مبنی جامع رپورٹ وزارتِ دفاع کو ارسال کی جائے گی۔دوسری جانب اورماڑہ کے قریب سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔ آپریشن میں پاک بحریہ کے جنگی بحری جہازوں کے علاوہ سی کنگ ہیلی کاپٹر، ڈیفینڈر طیارے اور نیول اے ٹی آر بھی حصہ لے رہے ہیں، جبکہ نیوی کے غوطہ خور مختلف مقامات پر زیرِ آب تلاش میں مصروف ہیں۔ذرائع کے مطابق تلاش کا دائرہ ممکنہ حادثہ مقام کے اطراف میں مزید 15 سے 20 ناٹیکل میل تک بڑھا دیا گیا ہے، تاہم طیارے میں سوار کاک پٹ عملے کے پانچ ارکان کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ سمندر میں موجود ماہی گیر کشتیوں اور دیگر بحری جہازوں سے بھی مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے تاکہ کسی ممکنہ شواہد تک رسائی حاصل کی جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ خراب موسم، بلند سمندری لہروں اور رات کی تاریکی کے باوجود پاک بحریہ پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ حادثے کا مقام تقریباً 3 ہزار میٹر گہرے سمندر میں واقع ہونے کے باعث ریکوری کا عمل انتہائی پیچیدہ ہے اور اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور خصوصی مہارت درکار ہے۔ذرائع نے واضح کیا ہے کہ سمندر سے ملنے والا ملبہ ضروری نہیں کہ طیارے کی حتمی موجودگی کے مقام کی نشاندہی کرتا ہو، کیونکہ سمندری لہریں، ہوائیں اور زیرِ آب کرنٹس ملبے کو اصل مقام سے دور لے جا سکتے ہیں۔ اسی لیے طیارے کے درست مقام کا تعین کرنے کے لیے مزید جامع اور مرحلہ وار سرچ آپریشن جاری رکھا جائے گا۔ماہرین کے مطابق گہرے سمندر میں زیرِ آب تلاش دنیا کے مشکل ترین ریسکیو آپریشنز میں شمار ہوتی ہے، جس کی ایک نمایاں مثال Malaysia Airlines Flight 370 disappearance کی تلاش ہے، جہاں برسوں کی عالمی کوششوں کے باوجود طیارے کا مکمل ملبہ آج تک برآمد نہیں کیا جا سکا۔