ویب ڈیسک: پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں شہری علاقوں کے سبزہ زاروں اور پارکس کی بحالی کے لیے نئے بزنس ماڈلز اور ترقیاتی منصوبے تیار کر لیے ہیں، جن پر رواں مالی سال میں عملدرآمد متوقع ہے۔
منصوبے کا مقصد ماحولیاتی بہتری اور شہریوں کو تفریحی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
اہم نکات اور منصوبے کی تفصیلات:
پنجاب کی تمام پی ایچ ایز (Parks & Horticulture Authorities) کے لیے نئے بزنس ماڈلز تیار کیے جائیں گے تاکہ انہیں خود کفیل اور مالی طور پر مضبوط ادارے بنایا جا سکے۔منصوبے کے تحت کابینہ کی سب کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی ارسال کی گئی ہے، جو پی ایچ ایز کی نگرانی، منصوبہ بندی، اور اس پر عملدرآمد کی ذمہ داری سنبھالے گی۔کابینہ کمیٹی کو کھیلوں کے میدان، پیڈل ٹینس اور فٹبال جیسے منصوبوں کی نگرانی کا اختیار بھی حاصل ہوگا تاکہ نوجوانوں کے لیے صحت مند تفریحی مواقع بڑھائے جا سکیں۔
آمدنی کے ذرائع اور مالی پہلو:
پی ایچ ایز کی مالی خودمختاری کے لیے نجی شعبے سے اشتراک، ایونٹس، نرسری سروسز، اشتہارات اور اسپانسرشپ جیسے ذرائع آمدن کو فروغ دیا جائے گا۔حکومت کو رواں مالی سال کے لیے 10 ارب روپے کے فنڈز کی باضابطہ درخواست بھی ارسال کر دی گئی ہے۔یہ فنڈز ماحول دوست ترقیاتی اقدامات اور پارکس و تفریحی مقامات کی بحالی و تزئین و آرائش پر خرچ کیے جائیں گے۔
فنڈز کی تقسیم اور شہر وار تفصیل:
موجودہ مالی سال کے بجٹ میں کل 4.757 ارب روپے رکھے گئے، جس میں سے صرف لاہور کے لیے 3.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔پنجاب کے 11 بڑے شہروں میں پی ایچ ایز کے تحت کام ہوگا، تاہم دیگر شہروں میں فنڈز کی کمی کے باعث مرمت، دیکھ بھال اور خوبصورتی کے کام متاثر ہو رہے ہیں۔
انتظامی پیشرفت:
منصوبے کی سمری سیکریٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل کی جانب سے پنجاب حکومت کو منظوری کے لیے ارسال کر دی گئی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے "کلین اینڈ گرین پنجاب" وژن کے مطابق یہ منصوبہ صوبے کے ماحولیاتی اور جمالیاتی منظرنامے کو بہتر بنانے کی ایک اہم کوشش ہے۔