سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
بعض محققین کاخیال ہے کہ اسرائیلی لابی اورکینیڈی انتظامیہ کاتناؤمحض پالیسی کامعاملہ نہیں،بلکہ اس تاریخی تناؤنے امریکی سیاسی کلچراورخارجہ پالیسی پردوررس اثرات ڈالے۔
نیشنل سیکیورٹی آرکائیو2006میں’’سرائیل حدعبور کرتا ہے‘‘میں ایونرکوہن اورولیم برکے مطابق کس طرح جان ایف کینیڈی کے ساتھ تناؤاورمبہم حالات میں قتل،لابی اورخارجی پالیسی کی یوں سیاہ گٹھ جوڑکی ایسی یادگارمثال ہمارے سامنے ہے کہ آج تک کینیڈی کی موت ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔
2018میں امریکی سفارت خانے کی یروشلم منتقلی،اورگولان کی پہاڑیوں پراسرائیلی حاکمیت کی توثیق گویاٹرمپ کے سابقہ دورمیں اسرائیل اورامریکاکاتعلق بظاہرعروج پردکھائی دیتاتھاتاہم حالیہ برسوں میں بعض امورپردونوں کانقطہ نظرمتصادم دکھائی دیالیکن ایران کے ایٹمی پلانٹ پرخوفناک حملہ کے جواب میں جب ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کواپنے میزائلوں کانشانہ بنایاتواس کے فوری بعدایک مرتبہ پھرٹرمپ کی طرف سے سیزفائرکااعلان کردیاگیااورپہلی مرتبہ ٹرمپ کے بیانات سے اسرائیل کے ساتھ تناؤکی کیفیت کااظہارسامنے آیاجس کی وجہ ایران پرحملے کے طریقہ کارپراسرائیل نے اپنے تحفظات کااظہارکیاجس کے بعداسرائیل کی سکیورٹی پالیسی اورامریکی مفادات کاتفاوت یعنی بعض حساس خفیہ معلومات کااسرائیل کی جانب سے مبینہ افشاکاانکشاف بھی سامنے آیا۔
حالیہ دنوں میں،ٹرمپ کارویہ بعض اسرائیلی پالیسیوں اوراقدامات پرشدید ناراضگی کاعکاس نظرآرہاہے۔اس کابنیادی سبب عسکری پالیسیوں میں اختلاف یعنی اسرائیل کاایران
اوردیگرہمسایہ ممالک پرجارحانہ مؤقف،جوامریکی امن منصوبوں اور’’ڈی-اسکلیشن‘‘پالیسیوں سے ہم آہنگ نہیں۔اسرائیل کی جانب سے بعض حساس خفیہ معلومات کالیک ہونا یاامریکی توقعات پرپورانہ اترنا، معاہدہ شکنی اوراعتمادکافقدان بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ٹرمپ کامزاج،ذاتی سیاسی تناؤاوراسرائیلی قیادت کارویہ بعض مواقع پرٹکراؤکا باعث بن گیا۔
سوال یہ ہے کہ کیاٹرمپ کی حالیہ ناراضگی یہودی لابی کومتحرک کرسکتی ہے؟امریکامیں اسرائیلی لابی روایتی طورپرری پبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں پارٹیوں میں ہمہ گیراثرورسوخ رکھتی ہے۔حالیہ برسوں میں اس لابی نے ٹرمپ کواسرائیل نوازپالیسیوں،جیسے امریکی سفارتخانے کی یروشلم منتقلی اورگولان کی پہاڑیوں کواسرائیلی حصہ تسلیم کرنے جیسے اقدامات پر سراہا۔تاہم،حالیہ ناراضگی اورتنقید اس لابی میں بے چینی کاباعث بن رہی ہے۔اس کاممکنہ نتیجہ ہوسکتاہے۔
٭ آئندہ انتخابی مہم اوردیگرسیاسی حمایت میں لابی کی جانب سے سردمہری کے طورپرمالی امدادمیں کمی ہوسکتی ہے۔
٭اسرائیل نوازمیڈیاپلیٹ فارمزاورتھنک ٹینکس کی جانب سے ٹرمپ مخالف بیانیے کافروغ کاامکان بھی ہوسکتاہے جس سے امریکی رائے عامہ میں ٹرمپ کے خلاف مہم شروع کی جاسکتی ہے۔
٭قانون سازایوانوں میں اسرائیل کی حمایت کرنے والے سینیٹرزاورارکانِ کانگریس کی مخالفت کی شکل میں سیاسی محاذآرائی شروع ہوسکتی ہے۔
٭اندرونی بیوروکریسی اوراسٹیبلشمنٹ میں لابی کااستعمال کرتے ہوئے خارجہ پالیسی میں ٹرمپ کوغیرمؤثرکرنے کی کوششیں اور خفیہ دباؤکاامکان بھی ہے۔
امریکی سیاسی تاریخ شاہدہے کہ اسرائیل کی لابی محض خارجی پالیسی کاحصہ نہیں،بلکہ امریکی سیاسی عمل کاحصہ ہے۔ماضی میں جان ایف کینیڈی اوردیگررہنماں کی مثال یہ باورکراتی ہے کہ اسرائیل کی لابی محض’’مشیر‘‘یا’’حامی‘‘نہیں، بلکہ بعض مواقع پر پالیسی سازی کی سمت اوربعض اوقات تقدیرِسیاست تک متعین کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔تاہم ٹرمپ اور اسرائیل کاحالیہ تنامحض وقتی اختلافِ رائے نہیں بلکہ امریکی داخلی سیاسی امتحان ہے۔اسرائیلی لابی،ماضی کی روایات اورتاریخی مثالوں کی بنیادپر،اس پوزیشن میں ہے کہ اگرٹرمپ اسرائیل مخالف یااس کی مرضی سے ہٹ کرکوئی راہ اختیارکرتے ہیں تویہ لابی محض تنقیدتک محدود نہیں رہے گی۔یہ لابی،ماضی کی مانند،سیاسی،ابلاغی اورمالی محاذوں پرمتحرک ہوکر امریکی صدرکیلئے ایسے چیلنج کھڑے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،جن کاتاریخی باب جان ایف کینیڈی کی داستان کاحصہ بن چکاہے۔
اس صورتحال میں کیاامریکااسرائیل کی پالیسی کایرغمال بن چکاہے؟محققین کی اس کے متعلق کیارائے ہے؟آئیے دیکھتے ہیں!
جان مؤئرشائمراوراسٹیفن والٹ’’دی اسرائیل لابی اوریوایس فارن پالیسی،2007‘‘کی رپورٹ میں اسرائیلی لابی اوراس کی امریکی پالیسی پرگرفت کاتفصیل سے تذکرہ کرتے ہوئے اس بات کونمایاں کرتے ہیں کہ امریکااسرائیل کی حمایت محض اسٹریٹجک ضرورتوں تک محدودنہیں بلکہ داخلی سیاسی وانتخابی مصلحتوں کاحصہ ہے۔نوم چومسکی اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امریکااسرائیل کومحض امدادنہیں دیتابلکہ اس کی دفاعی صنعت اورخطے میں جارحانہ پالیسیوں کاحصہ بن کراس سے مادی،تزویراتی اورسیاسی فوائدسمیٹتاہے۔
امریکاکی اسرائیل سے بے پناہ حمایت محض’’ہمدردی‘‘یا’’مذہبی ہم آہنگی‘‘کامظہرنہیں۔یہ تاریخی،سیاسی اوراقتصادی مصلحتوں کا مرکب ہے۔اسرائیل،امریکی اسلحہ سازکمپنیوں اورسیاسی لابیوں کانقطہ اتصال بن چکاہے۔یوں واشنگٹن اورتل ابیب کارشتہ محض دو ریاستوں کامعاملہ نہیں،بلکہ عالمی طاقت اورمصلحت کامعرکہ ہے۔امریکاکی اس ’’مجبوری‘‘کومحض اقتصادی یافوجی تناظرتک محدود نہیں رکھاجاسکتا۔یہ ایک ہمہ جہت،تاریخی اورتہذیبی تعلق ہے،جوحال اورمستقبل کی عالمی سیاست کی راہ متعین کرتاہے۔
امریکا اوراسرائیل کارشتہ محض دوریاستوں کاسفارتی یااقتصادی لین دین نہیں،بلکہ تاریخی،اسٹریٹجک،تہذیبی اورسیاسی مصلحتوں کا گہراامتزاج ہے۔مغرب میں تہذیبی ہم آہنگی اور امریکی سیاست میں عیسائی-یہودی روایت،بائبل اور’’وعدہ کی گئی سرزمین‘‘جیسے تاریخی بیانیے کااثرغالب ہے۔اسرائیل کومشرقِ وسطی کا’’ناقابلِ تسخیر قلعہ‘‘بناتے ہوئے امریکا نے خطے میں روس،چین اورایران جیسے حریفوں کاراستہ روکنے کی حکمت عملی اختیارکررکھی ہے۔
اسرائیل امریکی دفاعی صنعت کاسب سے بڑاگاہک ہے۔اس لیے یہ محض’’امداد‘‘نہیں بلکہ ایک مربوط اقتصادی چکرہے۔اسرائیل نواز لابیاں اور دیگر گروہ امریکی انتخابی میدان اورقانون سازی پرگہرااثررکھتے ہیں۔نوم چومسکی نے کئی دہائیوں تک امریکی پالیسی اورجارحیت پربے لاگ تنقید کی ہے۔چومسکی کی تحریریں امریکی سامراج،اسرائیل کی حمایت اورمڈل ایسٹ میں فوجی مداخلت کاپردہ چاک کرتے ہوئے واشنگٹن اورتل ابیب کی ہمہ گیرہم آہنگی کوعریاں کرتی ہیں۔چومسکی اپنی کتاب’’تسلط یابقا‘‘میں لکھتے ہیں:امریکا اسرائیل کو محض مشرقِ وسطی کاگڑھ تصورنہیں کرتابلکہ اپنی پالیسی کا حصہ بناچکاہے۔اسرائیل اورامریکاکاتعلق محض دوستانہ یااتحادی نہیں،بلکہ دونوں کاسامراجی مقصدمیں شراکت کارشتہ ہے۔
اپنی کتاب’’قسمت کی تکون‘‘میں چومسکی نے تفصیل سے بتایاہے کہ کس طرح اسرائیل اورامریکامل کرفلسطین اورعرب خطے پر تسلط قائم کرتے ہیں۔چومسکی نے اس رشتے کو ’’استعماری سہ رخی کھیل‘‘قراردیا۔امریکااوراسرائیل کاگٹھ جوڑمحض خطے کی سکیورٹی کامعاملہ نہیں،بلکہ دونوں کامقصدخطے کواپنے تابع بنائے رکھناہے۔ایک اورکتاب"’’ینوفیکچرنگ کی رضامندی‘‘میں چومسکی اورایڈورڈہرمن نے دکھایاہے کہ کس طرح امریکی میڈیااورلابی سسٹم اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں اورامریکی توسیع پسندانہ اقدامات کو’’قومی مفاد‘‘اور’’جمہوری جدوجہد‘‘کارنگ چڑھاکرپیش کرتے ہیں۔نوم چومسکی اوردیگرمحققین کابنیادی نکتہ یہ ہے کہ امریکاکااسرائیل سے تعلق محض اس لیے مضبوط نہیں کہ یہ دوجمہوری ریاستیں ہیں،بلکہ اس لیے ہے کہ دونوں کامقصدایک ہے:خطے کوکنٹرول کرنا،اقتصادی فوائدسمیٹنا،اوراسٹریٹجک توازن کواپنے حق میں بدلنا۔ چومسکی اس پالیسی کوجدیداستعماراورہمہ گیرجارحیت کاحصہ قراردیتے ہیں۔
امریکاکااسرائیل کی بے پناہ حمایت کرنامحض’’دوست ریاستوں‘‘کامعاملہ نہیں،یہ طاقت اوراسلحے کاکھیل ہے۔اسٹریٹجک قبضے اور وسائل پرکنٹرول کی داستان ہے۔اندرونی لابیوں اورعالمی بینکنگ سسٹمزکی کارفرمائی ہے۔تہذیبی،تاریخی اورسیاسی ہم آہنگی کاحصہ ہے اورسب سے بڑھ کر،’’عالمی بالادستی‘‘اور’’نئے سامراجی عہد‘‘کاتسلسل ہے۔نوم چومسکی جیسے محققین نے اس تعلق کومحض دوستانہ یااتحادی اندازمیں نہیں،بلکہ اس دورکاسب سے طاقتور’’استعماری گٹھ جوڑ‘‘قراردیاہے۔ چومسکی جیسے محققین کی بے لاگ تنقید اس حقیقت کاپردہ چاک کرتی ہے کہ یہ تعلق محض’’امداداورحمائت‘‘کانہیں بلکہ’’بالادستی،توسیع اوراقتدار‘‘کاتاریخی باب ہے۔یہ باب ماضی،حال اورشایدمستقبل تک پھیلاہواہے۔
امریکااسرائیل کی حمایت محض اس لیے نہیں کرتاکہ اسرائیل اس کااتحادی ہے،بلکہ اس لیے کرتاہے کہ اسرائیل عالمی سیاست اور اقتصادیات کامرکزبن چکاہے۔عرب ریاستوں، ایران اوردیگرعلاقائی طاقتوں کومعتدل یامحدودرکھنے کاامریکی عزم اسرائیل کی طاقت اوربقاسے جڑاہے۔ان دوریاستوں کاتعلق یہ ہے کہ یہ ’’عالمی اقتدار،جدیداستعماراور اقتصادی جارحیت‘‘کاحصہ ہیں۔ چومسکی جیسے محققین اس ربط کو تاریخی تناظر میں محض اتحاد یا دوستی کی صورت میں قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسرائیل کواس مقصد کا محوری ستون کہتے ہیں۔
یہ کہانی صرف ایران،امریکااوراسرائیل کی نہیں،یہ دراصل طاقت،مفادات اورحکمتِ عملی کی اس بازیگری کانام ہے جس میں انسانیت کی بقاباربارسوال بن کرابھرتی ہے۔مشرقِ وسطی کی دھرتی پرامن کی صبح طلوع کب ہوگی،اس کاجواب فی الحال تاریخ کے اوراق منتظرہیں۔مگریہ بھی حقیقت ہے کہ جب تک طاقتوراپنے مفادات کی بھینٹ کمزوروں کو چڑھاتے رہیں گے،جنگ کاشعلہ کبھی بجھ نہ پائے گا۔یہ سارامنظر محض دویاتین ریاستوں کاتنازعہ نہیں،بلکہ عالمی طاقت،تاریخی جدوجہداورتہذیبی بقاکاحصہ ہے۔مشرقِ وسطی کی ویران بستیوں اورخستہ حال ملبے میں یہ سبق بھی مضمرہے کہ تاریخ محض عہدوں کانام نہیں،یہ عبرت اوربصیرت کاچراغ بھی ہے۔