پہلے بانی سے ملاقات، تحریری مطالبات بعد میں

 عمران خان کے ساتھ اگر ملاقات نہیں ہوتی تو مذاکرات جاری نہیں رہ سکتے،بیرسٹر علی ظفر
    اسلا م آباد(خصوصی رپورٹ)پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل بیرسٹرعلی ظفر کا کہنا ہے کہ عمران خان سے ملاقات کے بغیر مطالبات تحریری طور پر نہیں دئیے جا سکتے، پولیٹیکل کمیٹی کی عمران خان سے ملاقات ضروری ہے۔ دھرنے کی کال ابھی نہیں دی گئی،راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ اگر ملاقات نہیں ہوتی تو مذاکرات جاری نہیں رہ سکتے مذاکرات جاری نہ رہے تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ملاقات اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہم سے تحریری طور پر مطالبات مانگے گئے ہیں اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہونے تک تحریری طور پر مطالبات نہیں دئیے جا سکتے کیوں کہ ان سے مشاورت کے بعد ہی ہم تحریری طور پر مطالبات دینے کی پوزیشن میں ہوںگے۔ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر علی ظفر کا یہ بھی کہنا تھا کہ سول نافرمانی کی تحریک کی کال ابھی نہیں دی گئی کیونکہ حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع ہوگئے تھے اس لیے بانی پی ٹی آئی نے صرف سول نافرمانی کال کی ڈیڈ لائن دی تھی۔