عمران خان نے مطالبات تحریری دینے اور مذاکرات جاری رکھنے کی اجازت دیدی

بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے ملاقات اگر نہیں کرنے دی جاتی تو ایک نشست مذاکرات کی ضرور کریں‘ کسی بھی ملک سے کوئی دعوت نامہ آتا ہے اس کو  ویلکم کریں گے
محسن نقوی یا کسی کی طرف سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا شفٹنگ کا نہیں کہا گیا‘چاہتے ہیں ملک اور قوم کیلئے مذاکرات ہوں:عمران خان سے ملاقات کے بعد بیرسٹرگوہر کی میڈیا سے گفتگو

راولپنڈی (آن لائن)بانی پی ٹی آئی عمران خان نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو مطالبات تحریری طور پر دینے کی اجازت دیدی اور کمیٹی کی ملاقات اگر نہیں کرنے دی جاتی تو ایک نشست مذاکرات کی ضرور کریں۔تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگومیں بتایاکہ بانی پی ٹی آئی سے مذاکراتی عمل کے حوالے سے بات ہوئی ہے۔بانی پی ٹی آئی نے حکومتی کمیٹی کو تحریری طور پر مطالبات دینے کی اجازت دے دی ہے۔بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے بے شک مطالبات تحریری شکل میں دے دئیے جائیں۔اب پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم تحریری مطالبات سامنے رکھے گی۔بیرسٹرگوہر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے کمیٹی کی ملاقات اگر نہیں کرنے دی جاتی تو ایک نشست مذاکرات کی ضرور کریں۔بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے کسی بھی ملک سے کوئی دعوت نامہ آتا ہے اسکو ویلکم کریں گے۔امریکہ کو پہلے بھی ایبسولوٹلی ناٹ کہا ہے آئندہ بھی کہیں گے جو بھی ملکی سلامتی یا خودمختاری میں مداخلت کرے گا۔انہوں نے کہا کہ نی پی ٹی آئی کسی بھی ڈیل کا تاثر زائل کرچکے ہیں۔تحریری مطالبات پر ہم نہیں چاہتے مذاکراتی عمل ڈیریل ہو۔ہم چاہتے ہیں ملک اور قوم کیلئے بڑے مقصد کیلئے مذاکرات ہوں۔ہم چاہتے ہیں جوڈیشل کمیشن بنے اور قیدیوں کی رہائی ہو۔بیرسٹر گوہر نے کہا  24 نومبر سے قبل ہمارا اچھا رابطہ اسٹیبلش ہوچکا تھا لیکن بات آگے نہیں چلی۔محسن نقوی یا کسی کی طرف سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا کبھی نہیں کہا گیا۔یہ بات بھی نہیں کی گئی کہ بانی پی ٹی آئی کو کہیں شفٹ کیا جائے۔