پی ٹی آئی کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کراچی کے موجودہ حالات کے حوالے سے اپنے بیان میں حکومت کے بیانیے اور اس کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے تمام جھوٹے بیانیے بری طرح ناکام ہو رہے ہیں اور عوام میں ان کی کوئی پذیرائی نہیں ہے۔ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ حکومت کو این آر او کی سیاست کو ختم کر دینا چاہیے کیونکہ عمران خان نہ تو نتھیا گلی، نہ بنی گالہ، اور نہ ہی ملک سے باہر جائیں گے، بلکہ وہ اپنے تمام کیسز کو عدالتوں میں لڑ کر حل کریں گے۔شوکت یوسفزئی نے حکومتی قرضوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ 2022ء سے اب تک حکومت نے 27 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا ہے، جو ملک کی معاشی مشکلات میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ ملک قرضوں پر کیسے چل سکتا ہے اور کہا کہ سیاسی استحکام ضروری ہے تاکہ ملک میں سرمایہ کاری کی فضا بحال ہو سکے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بارے میں بھی کہا کہ وہ پی ٹی آئی کی کردار کشی کرتے ہیں، خاص طور پر سرکاری تقاریب میں۔
کراچی کے حالات پر بات کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ شہر میں امن و امان کی صورتحال سنگین ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں شہری موبائل لے کر نہیں چل سکتے اور نہ ہی موٹر سائیکل پر باہر جا سکتے ہیں۔ شہر میں قتل و غارت کی سب سے زیادہ وارداتیں ہو رہی ہیں، جو اس بات کا غماز ہیں کہ کراچی میں امن و امان کی حالت میں بگاڑ آ چکا ہے۔