عمران کی رہائی کیلئے کوئی دبائو نہیں حکومت کے تمام فیصلوں میں پیپلزپارٹی کی قیادت شامل رہی رانا ثناء اللہ

عمران خان کو حکومت نے  بنی گالہ منتقل کرنے کی  پیشکش نہیں کی ‘ عمران خان کے اردگرد لوگ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، ان سے کوئی توقع نہیں رکھی جا سکتی
 عمران خان کو جیل مینوئل کے مطابق تمام سہولتیں میسر ہیں‘ تحریک انصاف چاہتی ہے  ملک میں سیاسی عدم استحکام رہے اور پاکستان معاشی طور پر ترقی نہ کرسکے:پریس کانفرنس
اسلام آباد(آئی این پی)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے  عمران خان کی رہائی کے لیے کہیں سے کوئی دبائو نہیں ہے،تحریک انصاف چاہتی ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام رہے اور پاکستان معاشی طور پر ترقی نہ کرسکے، لیکن ملک ضرور آگے بڑھے گا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئیرانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ کہ ہم نے مذاکرات کے پہلے دور میں ہی پی ٹی آئی سے مطالبہ کیا تھا کہ اپنے مطالبات تحریری طور پر دے دیں، لیکن ان کی باتوں سے لگتا نہیں کہ ایسا کریں گے،ہم چاہتے تھے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان نیشنل ڈائیلاگ ہوں، لیکن پی ٹی آئی رہنماں کی باتوں اور عمران خان کی ٹوئٹ سے لگتا ہے کہ سیدھی بات نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ علیمہ خان کی علی امین گنڈاپور اور شیر افضل مروت کے حوالے سے گفتگو غور طلب ہے، وہ اس سے قبل یہ بھی کہہ چکی ہیں کہ عمران خان کو جیل میں زہر دینے کی کوشش کی گئی، عمران خان کے اردگرد لوگ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، ان سے کوئی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔مشیر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، اور اسی کی بنیاد پر یہ بڑی سیاسی جماعت ہیں، عمران خان کو جیل مینوئل کے مطابق تمام سہولتیں میسر ہیں، بانی پی ٹی آئی کا ریاست اور اداروں کے حوالے سے جو موقف ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ تحریک انصاف چاہتی ہے  ملک میں سیاسی عدم استحکام رہے اور پاکستان معاشی طور پر ترقی نہ کرسکے، لیکن ملک ضرور آگے بڑھے گا۔ پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی کی عمران خان سے دوسری ملاقات بھی ہوجائیگی، اس سے قبل ان کی ایک ملاقات کرائی گئی تھی لیکن بعد میں کہا گیا یہ ملاقات ٹھیک نہیں تھی، بانی پی ٹی آئی عمران خان کو حکومت کی جانب سے بنی گالہ منتقل کرنے کی کوئی پیشکش نہیں کی گئی۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا 190 ملین پائونڈ ریفرنس کے فیصلے کو مذاکراتی عمل سے جوڑنا درست نہیں، پی ٹی آئی کے ساتھ یہ طے ہے کہ کیس کا کوئی بھی فیصلہ بات چیت کے عمل کو متاثر نہیں کریگا، حکومت جو بھی فیصلہ کرتی ہے پیپلزپارٹی اس میں آن بورڈ ہوتی ہے، ان کی جانب سے جو بیانات آتے ہیں وہ سیاسی ہیں، اور ان کو سیاست کرنے کا مکمل حق ہے۔