امجد علی(قسط۔۔ دوئم)
اگر دماغ پرسکون ہو اور خدا پر یقین مستحکم ہو تو انسان پورے وجود کے ساتھ فولاد کی طرح مضبوط ہو جاتا ہے، جیسے مضبوط ستون پوری عمارت کو قائم رکھتا ہے۔ اسی طرح نماز ایک ایسا انفرادی اور اجتماعی فائدہ رکھتی ہے جس کا احاطہ محض وہم و گمان سے ممکن نہیں۔ یہ عمل اللہ کے نام سے شروع ہو کر، جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، ہر دور اور ہر زمانے میں انسان کے ساتھ جاری رہتا ہے۔ چونکہ یہ انسان کی فلاح کے لیے ناگزیر تھا، اس لیے ہدایت، نرمی اور وجودی توازن کو بطور مشورہ نہیں بلکہ حکم اور عبادت کی حیثیت دے کر نافذ کیا۔
نماز محض ایک انفرادی عبادت نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت فلاحی نظام ہے تحفہ الہی ہے، جس کے اثرات و ثمرات زمان و مکاں کی رنگین بستی سے گذرنے والے ایک فرد سے لے کر پورے انسانی معاشرے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ چونکہ انسان اپنی سہولت، سستی اور فوری فائدے کے تحت اکثر وہ چیزیں اختیار نہیں کرتا جو اس کے لیے حقیقی نفع رکھتی ہوں، اسی لیے رب رحمان نے نماز کو صرف مفید مشورہ کی بجائے حکمیہ انداز میں فرض بنا کر نافذ کیا ہے اس حکم کے ساتھ جزا و سزا کا تصور بھی جڑا ہے کیونکہ انسان خوف اور امید کے بغیر اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح بروئے کار نہیں لاتا۔ ایسا اس لیے کیا گیا کہ ہر مشین کا کوئی موجد ایک انجینیر ہوتا ہے۔ وہی مشین کی جزئیات کو سب سے بہترجانتا ہے۔ وہی مشین کی بہترین کارکردگی کے لیے اسے چلانے کے طریقے ساتھ ملنے والے آپریٹنگ مینیول میں درج کر کے بھیجتا ہے۔ یہ طریقے مشین کی کارکردگی اور عمر دونوں کو بڑھا دیتے ہیں۔ انسان کا خالق اللہ کریم ہے لہذا اس کی بہترین کارکردگی کے لیے اس نے انبیاء ، قرآنی تعلیمات اور نعمت نماز کے ذریعے جو سلیقے سیکھائے ہیں۔ اگر انسان احکامات الہیہ، تعلیمات نبویہ اور نماز کے مطابق زندگی گزارے تو وہ پرسکون، کامیاب اور بہترین بہشتی زندگی کو اسی زمین پر جئیے گا۔ یہ سب اس رب کی رحمتوں اور عطاؤں کا مظہر ہے اسی لیے فرمایا گیا ہے۔
‘‘وما ارسلناک الا رحم?ً للعالمین’’
یعنی اللہ کا ہر حکم، ہر نظام اور ہر عمل اپنی اصل میں رحمت ہے۔ نماز اسی رحمت کا عملی اظہار ہے، اسی لیے نماز مومن کی معراج کہا گیا ہے۔ جب نماز نرمی، محبت اور حضوری قلب کے ساتھ ادا کی جائے تو انسان رب کے حضور حاضری کا شعور پاتا ہے، اور یہی شعور اس کی سوچ، فیصلوں اور رویوں میں توازن پیدا کرتا ہے۔ یہ توازن ہی نظم و ضبط، درست فیصلوں اور باوقار زندگی کی بنیاد بنتا ہے۔ مزید یہ کہ نماز جسم کے تمام اعضاء کو متحرک رکھتی ہے، خلیات کی کارکردگی کو منظم کرتی ہے، اور یوں جسم اور ذہن کے پورے نظام کو ایک ہی وقت میں ہم آہنگ کر دیتی ہے۔
سور? فاتحہ میں بولتے فہم و شعور کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جب بندہ کہتا ہے ‘‘اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، جو بڑا مہربان، نہایت رحم فرمانے والا ہے اے رب العالمین! تو وہ ذات ہے جو اپنی کائناتی توانائیوں کو تمام جہانوں کی پرورش میں لگایا ہوا ہے۔ چاہے کوئی شعور رکھتا ہو یا نہ، وجود یا عدم میں، تو سب کو بلاغرض و غایت بلا معاوضہ عطا کرتا ہی چلا جاتا ہے۔ یہی صفت رحیمی ہے کہ تو یوم حساب کا مالک ہوتے ہوئے بھی اپنے پیاروں سمیت، دشمنوں کو بھی رزق کثیر دیتا ہے۔ ہم دنیا میں معمولی مدد کرنے والوں کے تو احسان مند ہو جاتے ہیں، مگر اس رب کو بھول جاتے ہیں جس نے ہمیں بے پناہ صلاحیتیوں سے نوازا پھر مٹی سے اٹھا کر افلاک کا سفیر بنایا۔ یہی تو مقام شکر ہے تو کیوں نہ بار بار کہوں، سب تعریفیں اسی رب رحمان و رحیم کو سزاوار ہیں جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے۔
اس کے بعد تعوذ پڑھتا ہے، جس میں بندہ اعلانیہ طور پر اللہ سے شر شیطان سے پناہ طلب کرتا ہے۔ دراصل یہ اس سوچ اور نفس سے بغاوت کا اعلان ہے جس پر شیطان ڈٹ گیا اور انسان کو اکساتا ہے کہ اپنے رب کے سامنے انکار و تکرار کرے جو بالآخر سزا کا مستحق ٹھراتی ہے۔ حالت نماز میں بندہ دعاء گو ہوتا ہے یارب مجھے ایسی سوچ، ایسے نفس اور ایسے رویے سے دور رکھ، مجھے اپنی پناہ میں رکھ۔ میں صرف تیری ہی حمد و ثنا چاہتا ہوں، مجھے اسی کی توفیق عطا فرما۔ اسی شعور کے ساتھ بندہ کہتا ہے ‘‘الحمد للہ رب العالمین’’ تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، اے رب کریم! کہ تو نے اپنی قدرت کی کائناتی توانائیوں کو تمام جہانوں کی پرورش کی خاطر نشاور کر رکھا ہے۔ کوئی باہوش یا بے ہوشں ہو، وجود یا عدم میں، اسے بھوک کا شعور ہو یا نہیں، تو سب کو بلا غرض وغایت اور بلا امتیاز عطا کرتا چلا جا رہا ہے۔ بے شک تو رحمن بھی ہے اور رحیم بھی، یہ تجھی کو زیب دیتا ہے اور تیرے ہی شایان شان ہے۔
اصل بادشاہت اور اصل رحمت تو صرف تیری ہی ہے۔
تو صرف اس لیے نہیں دیتا کہ دینے پر قادر ہے، بلکہ اس کے باوجود دیتا ہے کہ تو یوم حساب کا مالک و مختار بھی ہے۔ ہر ایک سے جواب لینے پر قادر ہے، پھر بھی اپنے دوستوں، دشمنوں سبھی کو رزق دیتا ہی چلا جاتا ہے۔
دنیا میں ہم معمولی مدد کرنے والوں کے بھی احسان مند ہوتے ہیں، ان کی تعظیم کرتے ہیں، اور پھر اس خدائے بزرگ و برتر کو کیوں اور کیسے بھول جاتے ہیں جس نے انسان کو مٹی کے ذرے سے مہتاب بنایا، جس نے نعمتیں، صلاحیتیں اور توانائیاں عطا کیں، جس کی حمد و ثنا سے عقلیں عاجز ہیں
اور انسان کسقدر بدبخت ہے، کہ اب بھی اپنے محسن ازلی و دائمی کو پہچان نہیں پا رہا، حالانکہ اسکی اپنی زندگی کی کشتی، اسی رب کے بنائے سمندروں پر رواں تیر رہی ہے۔ اے اللہ! تو میری گردن پکڑنے کے بجائے مجھے اور زیادہ دے رہا ہے، اور میں اس کے باوجود دوسروں کے سامنے جھک جاتا ہوں، انہی سے امیدیں باندھتا ہوں، انہی سے مانگتا ہوں۔ میں اس بھٹکی ہوئی حالت میں تیرے حضور حاضر ہوا ہوں۔ مجھے توفیق دے کہ میں صرف تیری ہی عبادت کروں اور صرف تیرے ہی آگے ہاتھ پھیلاؤں۔
مجھے ایک دانہ درکار ہو یا تمام منڈیوں کا غلہ خریدنا ہو میری زبان زمانی سہاروں کی بجائے تجھ ہی سے سوال کرے۔ اصل فلاح تو اسی بیمثال نرمی، عطا اور بے حساب سخاوت بھری سنت الٰہیہ میں ہے۔ یا اللہ مجھے اپنے ہی راستے پر گامزن ہونے کی توفیق عطا فرما۔ جب میرا رب ایسا بے مثال ہے جس جیسا نہ زمین، نہ آسمان، نہ تمام جہانوں میں ہے تو میں کیوں جہالت کا نمائندہ بن کر کسی اور کے آگے ہاتھ پھیلاؤں، جو خود تیری عطا کا محتاج اور تیری ہی جود وسخا سے ایک ایک سانس کی انمول نعمت کا طلبگار ہوں؟
نرمی، توازن اور فکری استقامت کی عرض گزاری کرتے کہتا ہے اے اللہ مجھے صراط مستقیم پر چلا دے، مجھے ان لوگوں کا راستہ دے جن پر تو نے انعام فرمایا، جنہیں عفو، حلاوت، اور بندگی کی خوبصورتی عطا کی گئی۔
اور ان کے راستے سے بچا جنہوں نے جان بوجھ کر سرکشی اختیار کی، اور انجام کار محرومی کا شکار ہوئے۔
یہ دعا دراصل انسان کو اس جہالت اور اندھے پن سے بچانے کی فریاد ہے جہاں وہ جس کا کھاتا ہے، اسی کے خلاف صف آرا ہو جاتا ہے، اور پھر ابلیسی غرور میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
نماز اور سور? فاتحہ وہ کلمات ہیں جو محض زبان سے ادا نہیں ہوتے، بلکہ وجود کی گہرائیوں میں اتر کر شعور کو تازہ کر دیتے ہیں۔ جب انسان مسائل کے بوجھ سے آزاد ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو دماغ کے نیورانز، (گویا برقی گھوڑے) حرکت میں آ جاتے ہیں۔ لیکن اگر یہی دماغ مسلسل تناؤ میں رہے تو انتشار پیدا ہو جاتا ہے، اور انتشار دراصل ایک زندہ موت ہے۔ اسی لیے دن میں وقفے وقفے سے نماز کا نظام ایک قدرتی سٹیبلائزر کا کام کرتا ہے۔ نماز دماغ کے لیے ریفریشنگ سسٹم کا کام کرتی ہے۔ جیسے ہائی ٹرانسمیشن لائنوں پر لگے کنٹرولرز توانائی کے بے قابو بڑھتے بہاؤ کو منظم رکھتے ہیں، ویسے ہی نماز ذہنی توانائی کو مطلوبہ کنڈیشنڈ سطح پر رکھتی ہے۔ بے قابو رفتار باعث تباہی بنتی ہے، مگر منظم رفتار تعمیری کردار ادا کرتی ہے۔
نماز ذکر الٰہی ہے صبح شام، اٹھتے بیٹھتے لیٹے ذکر کرنے کا حکم ہے۔ نماز دن کے پانچ اوقات میں فرض کی گئی۔ اس لیے شان نماز کی بابت ایک اور حکم آتا ہے ‘‘بیشک نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے’’ برائی سے روکنا صرف ظاہری نہیں، بلکہ باطنی بھی ہے۔ نماز نرمی پیدا کرتی ہے، اور نرمی ہی وہ قوت ہے جو لالچ، خوف اور سختی کی منفی رویوں کے پھیلاؤ کو روکتی ہے۔ نرمی کے بغیر انسان سوکھے پتے یا بدنما تنے کی مانند ہو جاتا ہے۔ نرمی ہی تبدیلیوں کو جگہ دیتی ہے۔ یہی وصف انسان کو غیر متوقع حالات میں بھی زندہ اور متحرک رکھتا ہے۔ نماز یہی سلیقہ سکھاتی ہے۔
نماز بندے اور رب کے درمیان گہرے مضبوط رابطے کا ایک مسلسل شعوری رابطہ ہے۔ اگر بندہ اس کی روح کو تک پہنچ پائے تو نماز اس کی معراج بن جاتی ہے۔ سکون دراصل جنت کی کھڑکی سے آنے والی وہ دولت ہے جو اسی کو ملتی ہے جو ‘‘کن’’ میں سانس لینا سیکھ لے۔ جو نماز کو قائم کر لیتا ہے، وہ سکون کی چابیاں تھام لیتا ہے۔ پھر اس کا معاملہ حالات سے نہیں، اپنے رب سے ہوتا ہے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی جنت کا مکین بن جاتا ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی اس فلاحی، الٰہی سائنس کو سمجھنے، اپنانے اور جینے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین