66 فیصد پاکستانیوں کو رشوت نہیں دینی پڑی، 57 فیصد کی قوتِ خرید کم ہوئی
78 شہری طاقتور اداروں کو بھی قانون کے دائرے میں مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں
83 فیصد شہری سیاسی جماعتوں کی بزنس فنڈنگ پر پابندی چاہتے :رپورٹ جاری
اسلام آباد(بیورو رپورٹ ،خصوصی رپورٹ)ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے این سی پی ایس 2025 رپورٹ جاری کر دی جس کے مطابق ملک میں بدعنوانی کے عوامی تاثر میں واضح کمی اور شفافیت میں اضافہ دیکھا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ 12 ماہ میں 66 فیصد پاکستانیوں کو کسی سرکاری کام کیلئے رشوت دینے کی ضرورت نہیں پڑی جبکہ 60 فیصد شہریوں کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف معاہدہ اورایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکلنے کے ذریعے معیشت کو مستحکم کیا۔ 78 فیصد شہری احتسابی اداروں کے اپنے احتساب کے حق میں ہیں ، سروے کے مطابق 43 فیصد شہریوں نے قوتِ خرید میں بہتری محسوس کی جبکہ 57 فیصد نے کمی دیکھی۔ 51 فیصد شرکا چاہتے ہیں کہ ٹیکس چھوٹ والے این جی اوز، ہسپتال، لیبارٹریاں اور تعلیمی ادارے عوام سے فیس نہ وصول کریں ، 53 فیصد چاہتے ہیں یہ ادارے اپنے ڈونرز اور عطیات کی تفصیل عوام کے سامنے ظاہر کریں۔ سروے 22 سے 29 ستمبر 2025 کے دوران ملک بھر میں 4000 افراد پر کیا گیا جس میں 55 فیصد مرد، 43 فیصد خواتین اور 2 فیصد خواجہ سرا شامل تھے ، 59 فیصد شہری اور 41 فیصد دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ رپورٹ میں یہ بات واضح کی گئی کہ پولیس بارے مثبت عوامی رائے میں 6 فیصد اضافہ ہوا ،تعلیم، زمین و جائیداد، لوکل گورنمنٹ اور ٹیکسیشن کے شعبوں میں بھی عوامی تاثر بہتر ہوا۔ 83 فیصد شہری سیاسی جماعتوں کی بزنس فنڈنگ پر پابندی یا سخت ضابطہ چاہتے ہیں، 42 فیصد موثر وسل بلوئر قوانین کے حامی ہیں، 70 فیصد شہری سرکاری کرپشن رپورٹنگ نظام سے ناواقف ہیں اور 78 فیصد چاہتے ہیں احتسابی ادارے بھی قانون کے دائرے میں مضبوط رہیں۔ 83فیصد شہری کاروباری سرمایہ کے ذریعے سیاست میں آنے والے پیسے کو یا تو مکمل پابندی یا سخت ضابطوں کے تحت دیکھنا چاہتے ہیں۔