باغیوں کا اعلان فتح ،تمام قیدیوں کی رہائی ، صدربشار الاسد روس فرار، دمشق میں جشن ، صدارتی محل میں لوٹ مار
دمشق(خصوصی رپورٹ)شام میں اسد خاندان کا طویل اقتدار ختم ہو گیا ، باغیوں نے فتح کا اعلان کر دیا ،شامی جیلوں سے تمام قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ، صدربشار الاسد ملک سے فرار ہو کر روس پہنچ گئے ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق حیات تحریر الشام کے باغی گزشتہ چند دنوں کے دوران مسلسل پیش قدمی کرتے ہوئے مختلف شہروں پر قابض ہوتے جا رہے تھے، انہوں نے پہلے ادلب ، حما ، پھر حمص صوبے کو اپنے قبضے میں لیا ،گزشتہ روز وہ شام کے دارالحکومت دمشق پر بھی قابض ہو گئے جبکہ شامی صدر بشار الاسد 24 سالہ اقتدار کے خاتمے پر ملک سے فرار ہوگئے، باغیوں کی جانب سے سرکاری ٹی وی پر دمشق کی فتح کا اعلان نشر ہوتے ہی ہزاروں افراد نے دارالحکومت کے مرکز میں واقع امیہ چوک میں آزادی کا جشن منایا۔شامی باغیوں کا کہنا ہے کہ دمشق اب اسد سے آزاد ہے،عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد گاڑیوں کے ساتھ اور پیدل دمشق کے ایک مرکزی چوک پر جمع ہوئے اور ہاتھ ہلا کر آزادی کے نعرے لگائے۔باغیوں کا کہنا تھا کہ ہم شامی عوام کے ساتھ اپنے قیدیوں کی رہائی اور ان کی زنجیریں ٹوٹنے کی خبر پر جشن مناتے ہیں اور سدنیا جیل میں ناانصافی کے دور کے خاتمے کا اعلان کرتے ہیں۔یاد رہے سدنیا دمشق کے مضافات میں واقع ایک بڑی فوجی جیل ہے جہاں شامی حکومت نے ہزاروں افراد کو حراست میں رکھا ہوا تھا۔ شامی باغیوں نے اپنی فتح کا اعلان سرکاری ٹی وی پر کرتے ہوئے بتایا کہ شام سے بشار الاسد حکومت کے طویل دور کا خاتمہ ہو گیا ہے۔باغیوں نے تمام قیدیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دمشق میں صورتحال محفوظ ہے،کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں ہو گی۔انہوں نے آزاد شام کی خود مختاری اور سالمیت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ شام میں سیاہ دور کا خاتمہ کرنے کے بعد نیا عہد شروع ہونے جا رہا ہے۔باغیوں کا کہنا تھا شام کی تمام سرکاری، غیر سرکاری املاک اور تنصیبات کا تحفظ کیا جائے گا۔شامی باغی گروپ تحریر الشام کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے سابق شامی سرکاری فوج اور عوام کیلئے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام اور سابق حکومت کے فوجی سرکاری اداروں سے دور رہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے تمام جنگجو اور شہری ریاست شام کی املاک کا تحفظ اور دیکھ بھال کریں۔شامی باغیوں کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دمشق میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ، مقامی وقت کے مطابق کرفیوں اتوار کو چار بجے نافذ کیا گیا۔ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کرفیو کب ہٹایا جائے گا؟۔ادھر ایک ویڈیو میں بشارالاسد کی دمشق میں رہائش گاہ کے اندرونی مناظر دکھائے گئے ہیں ، لوگ سامان لوٹ کر لے جا رہے ہیں ،کچھ تصاویر میں لوگوں کو معزول صدر بشارالاسد کی رہائش گاہ کے اندر دیکھا جا سکتا ہے۔خواتین، بچوں اور مردوں کو گھر اور باغ کی سیر کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا، کمرے بالکل خالی تھے، کچھ فرنیچر اور اسد کی تصویر فرش پر پھینکی ہوئی تھی۔ادھر ابو محمد الجولانی کا کہنا تھا سرکاری ادارے اس وقت سابق وزیراعظم کی نگرانی میں ہیں، اقتدار کی منتقلی تک سابق وزیراعظم محمد غازی الجلالی حکومتی اداروں کی سربراہی کریں گے۔علاوہ ازیں شامی فوج نے بھی اسد حکومت کے خاتمے کی تصدیق کر دی۔ فوج کی کمان نے افسروں کو مطلع کیا ہے کہ باغیوں کے حملے کے بعد صدر بشار الاسد کی حکومت ختم ہو گئی ہے۔ فوج کے دو سینئر افسروں نے بتایا کہ بشار الاسد اتوار کے روز دمشق سے کسی نامعلوم مقام کیلئے روانہ ہوگئے تھے۔شام کے وزیراعظم محمد غازی الجلالی نے کہا کہ معزول صدربشارالاسد سے آخری رابطہ ہفتے کی رات ہوا تھا، اس کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیاتھا۔انہوں نے بتایا کہ آخری بات چیت کیدوران صدربشارالاسدکو صورتحال سے آگاہ کیا تھا جس کے بعد صدر الاسد نے کہا موجودہ حالات پر کل بات کریں گے۔شامی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں صورتحال کی سنگینی کا اندازہ نہیں تھا، مذاکرات سے بغاوت روکنیکی امید تھی لیکن جس تیزی کے ساتھ حالات تبدیل ہوئے اس کے لیے ہم کسی بھی طرح تیار نہیں تھے۔محمد غازی الجلالی کا کہنا تھا کہ شامی حکومت کے 28 وزرا میں بیشتر شام میں ہی موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام میں خوف وہراس کی فضا پھیلی ہوئی ہے لیکن عوام کو تبدیلی سیگھبرانیکی ضرورت نہیں ہے، حالات جلد معمول پر آجائیں گے، موجودہ حکومت ملک میں عام انتخابات اور پْرامن انتقال اقتدارکی پابند ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تحریر الشام ملیشیاکے سربراہ ابو محمدالجولانی سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا تھا۔واضح رہے کہاباغیوں کے سربراہ ابو محمد الجولانی کا کہنا تھا کہ اقتدار کی منتقلی تک سابق وزیراعظم محمد غازی الجلالی حکومتی معاملات چلائیں گے۔ معزول صدر بشار الاسد کے بارے میں تاحال غیر واضح ہے کہ وہ اس وقت کہاں ہیں؟۔شامی فوج کے دو اعلیٰ افسران نے بتایا کہ حیات تحریر الشام کے باغی جنگجووٓں کے دمشق میں داخلے سے کچھ دیر پہلیصدر بشار الاسد دمشق ایئر پورٹ سے ایک ہوائی جہاز میں سورا ہو کر کہیں چلے گئے۔شامی فوج کے مطابق طیارے نے کسی نامعلوم منزل کی طرف پرواز کی تھی۔فلائٹ ریڈار نامی ویب سائٹ کے ایئر ٹریفک ڈیٹا کے مطابق گزشتہ روز دمشق ایئر پورٹ سے شامی فضائی کمپنی سیریئن ایئر کے ایک طیارے نے تقریبا ًاسی وقت پرواز کی تھی جب اپوزیشن کے مسلح باغی شامی دارالحکومت میں داخل ہو کر اس شہر کا کنٹرول سنبھال رہے تھے تاہم اس ڈیٹا سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ آیا بشار الاسد اس طیارے میں سوار تھے۔سیریئن ایئر کے طیارے نے دمشق سے اپنی روانگی کے بعد پہلے ملک کے شمال مغربی علاقے کی طرف پرواز کی تھی،پھر کچھ ہی دیر بعد اس طیارے نے اپنی پروازکا رخ بدل کر بالکل مخالف سمت میں کر دیا تھا، جس کے بعد یہ طیارہ فلائٹ میپ سے غائب ہو گیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق شام کے مفرور صدر بشار الاسد کی طیارہ حادثہ میں موت کی خبریں گردش کر رہی تھی تاہم مفرور صدر روس پہنچ گئے ۔روس نے سابق شامی صدر بشار الاسد اور ان کے خاندان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ دے دی۔روسی چینل ون نے کریملن ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سابق شامی صدر بشار الاسد اور ان کا خاندان روس میں ہے۔اس سے قبل بشار الاسد کی طیارہ حادثے میں ہلاکت کی متضاد خبریں سامنے آرہی تھی۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق میں باغیوں کے داخل ہونے سے پہلے ہی بشار الاسد ایک طیارے میں نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہوگئے تھے۔ وائٹ ہاوٓس نے ایک بیان میں کہا کہ صدر بائیڈن اور ان کی ٹیم شام میں پیش آنے والے غیر معمولی حالات پر بہت قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں،امریکی انتظامیہ مشرق وسطیٰ میں اپنے پارٹنرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دمشق معاملے سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے، ہمیں شام کی جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں ٹرمپ نے لکھا کہ بشار الاسد روس کی حمایت ختم ہونے کے بعد شام سے بھاگ گیا۔پیوٹن بھی اب انہیں بچانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔اطالوی وزیر خارجہ نے کہا ہم شام میں موجودہ صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔برطانوی نائب وزیر اعظم اینجلا رینر نے بشار الاسد کے دور اقتدار کے خاتمے پر کہا کہ برطانیہ شام میں اسد حکومت کے خاتمے کا خیر مقدم کرتا ہے۔ چینی حکومت نیامید ظاہر کی کہ شام جلد از جلد استحکام کی طرف لوٹ آئے گا۔چین شام میں پیش آنے والے واقعات پر بہت قریب سے گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ بالآخر جابر ریاست گر گئی۔ دمشق(خصوصی رپورٹ)شام میں اسد خاندان کا طویل اقتدار ختم ہو گیا ، باغیوں نے فتح کا اعلان کر دیا ،شامی جیلوں سے تمام قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ، صدربشار الاسد ملک سے فرار ہو کر روس پہنچ گئے ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق حیات تحریر الشام کے باغی گزشتہ چند دنوں کے دوران مسلسل پیش قدمی کرتے ہوئے مختلف شہروں پر قابض ہوتے جا رہے تھے، انہوں نے پہلے ادلب ، حما ، پھر حمص صوبے کو اپنے قبضے میں لیا ،گزشتہ روز وہ شام کے دارالحکومت دمشق پر بھی قابض ہو گئے جبکہ شامی صدر بشار الاسد 24 سالہ اقتدار کے خاتمے پر ملک سے فرار ہوگئے، باغیوں کی جانب سے سرکاری ٹی وی پر دمشق کی فتح کا اعلان نشر ہوتے ہی ہزاروں افراد نے دارالحکومت کے مرکز میں واقع امیہ چوک میں آزادی کا جشن منایا۔شامی باغیوں کا کہنا ہے کہ دمشق اب اسد سے آزاد ہے،عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد گاڑیوں کے ساتھ اور پیدل دمشق کے ایک مرکزی چوک پر جمع ہوئے اور ہاتھ ہلا کر آزادی کے نعرے لگائے۔باغیوں کا کہنا تھا کہ ہم شامی عوام کے ساتھ اپنے قیدیوں کی رہائی اور ان کی زنجیریں ٹوٹنے کی خبر پر جشن مناتے ہیں اور سدنیا جیل میں ناانصافی کے دور کے خاتمے کا اعلان کرتے ہیں۔یاد رہے سدنیا دمشق کے مضافات میں واقع ایک بڑی فوجی جیل ہے جہاں شامی حکومت نے ہزاروں افراد کو حراست میں رکھا ہوا تھا۔ شامی باغیوں نے اپنی فتح کا اعلان سرکاری ٹی وی پر کرتے ہوئے بتایا کہ شام سے بشار الاسد حکومت کے طویل دور کا خاتمہ ہو گیا ہے۔باغیوں نے تمام قیدیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دمشق میں صورتحال محفوظ ہے،کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں ہو گی۔انہوں نے آزاد شام کی خود مختاری اور سالمیت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ شام میں سیاہ دور کا خاتمہ کرنے کے بعد نیا عہد شروع ہونے جا رہا ہے۔باغیوں کا کہنا تھا شام کی تمام سرکاری، غیر سرکاری املاک اور تنصیبات کا تحفظ کیا جائے گا۔شامی باغی گروپ تحریر الشام کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے سابق شامی سرکاری فوج اور عوام کیلئے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام اور سابق حکومت کے فوجی سرکاری اداروں سے دور رہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے تمام جنگجو اور شہری ریاست شام کی املاک کا تحفظ اور دیکھ بھال کریں۔شامی باغیوں کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دمشق میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ، مقامی وقت کے مطابق کرفیوں اتوار کو چار بجے نافذ کیا گیا۔ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کرفیو کب ہٹایا جائے گا؟۔ادھر ایک ویڈیو میں بشارالاسد کی دمشق میں رہائش گاہ کے اندرونی مناظر دکھائے گئے ہیں ، لوگ سامان لوٹ کر لے جا رہے ہیں ،کچھ تصاویر میں لوگوں کو معزول صدر بشارالاسد کی رہائش گاہ کے اندر دیکھا جا سکتا ہے۔خواتین، بچوں اور مردوں کو گھر اور باغ کی سیر کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا، کمرے بالکل خالی تھے، کچھ فرنیچر اور اسد کی تصویر فرش پر پھینکی ہوئی تھی۔ادھر ابو محمد الجولانی کا کہنا تھا سرکاری ادارے اس وقت سابق وزیراعظم کی نگرانی میں ہیں، اقتدار کی منتقلی تک سابق وزیراعظم محمد غازی الجلالی حکومتی اداروں کی سربراہی کریں گے۔علاوہ ازیں شامی فوج نے بھی اسد حکومت کے خاتمے کی تصدیق کر دی۔ فوج کی کمان نے افسروں کو مطلع کیا ہے کہ باغیوں کے حملے کے بعد صدر بشار الاسد کی حکومت ختم ہو گئی ہے۔ فوج کے دو سینئر افسروں نے بتایا کہ بشار الاسد اتوار کے روز دمشق سے کسی نامعلوم مقام کیلئے روانہ ہوگئے تھے۔شام کے وزیراعظم محمد غازی الجلالی نے کہا کہ معزول صدربشارالاسد سے آخری رابطہ ہفتے کی رات ہوا تھا، اس کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیاتھا۔انہوں نے بتایا کہ آخری بات چیت کیدوران صدربشارالاسدکو صورتحال سے آگاہ کیا تھا جس کے بعد صدر الاسد نے کہا موجودہ حالات پر کل بات کریں گے۔شامی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں صورتحال کی سنگینی کا اندازہ نہیں تھا، مذاکرات سے بغاوت روکنیکی امید تھی لیکن جس تیزی کے ساتھ حالات تبدیل ہوئے اس کے لیے ہم کسی بھی طرح تیار نہیں تھے۔محمد غازی الجلالی کا کہنا تھا کہ شامی حکومت کے 28 وزرا میں بیشتر شام میں ہی موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام میں خوف وہراس کی فضا پھیلی ہوئی ہے لیکن عوام کو تبدیلی سیگھبرانیکی ضرورت نہیں ہے، حالات جلد معمول پر آجائیں گے، موجودہ حکومت ملک میں عام انتخابات اور پْرامن انتقال اقتدارکی پابند ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تحریر الشام ملیشیاکے سربراہ ابو محمدالجولانی سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا تھا۔واضح رہے کہاباغیوں کے سربراہ ابو محمد الجولانی کا کہنا تھا کہ اقتدار کی منتقلی تک سابق وزیراعظم محمد غازی الجلالی حکومتی معاملات چلائیں گے۔ معزول صدر بشار الاسد کے بارے میں تاحال غیر واضح ہے کہ وہ اس وقت کہاں ہیں؟۔شامی فوج کے دو اعلیٰ افسران نے بتایا کہ حیات تحریر الشام کے باغی جنگجووٓں کے دمشق میں داخلے سے کچھ دیر پہلیصدر بشار الاسد دمشق ایئر پورٹ سے ایک ہوائی جہاز میں سورا ہو کر کہیں چلے گئے۔شامی فوج کے مطابق طیارے نے کسی نامعلوم منزل کی طرف پرواز کی تھی۔فلائٹ ریڈار نامی ویب سائٹ کے ایئر ٹریفک ڈیٹا کے مطابق گزشتہ روز دمشق ایئر پورٹ سے شامی فضائی کمپنی سیریئن ایئر کے ایک طیارے نے تقریبا ًاسی وقت پرواز کی تھی جب اپوزیشن کے مسلح باغی شامی دارالحکومت میں داخل ہو کر اس شہر کا کنٹرول سنبھال رہے تھے تاہم اس ڈیٹا سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ آیا بشار الاسد اس طیارے میں سوار تھے۔سیریئن ایئر کے طیارے نے دمشق سے اپنی روانگی کے بعد پہلے ملک کے شمال مغربی علاقے کی طرف پرواز کی تھی،پھر کچھ ہی دیر بعد اس طیارے نے اپنی پروازکا رخ بدل کر بالکل مخالف سمت میں کر دیا تھا، جس کے بعد یہ طیارہ فلائٹ میپ سے غائب ہو گیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق شام کے مفرور صدر بشار الاسد کی طیارہ حادثہ میں موت کی خبریں گردش کر رہی تھی تاہم مفرور صدر روس پہنچ گئے ۔روس نے سابق شامی صدر بشار الاسد اور ان کے خاندان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ دے دی۔روسی چینل ون نے کریملن ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سابق شامی صدر بشار الاسد اور ان کا خاندان روس میں ہے۔اس سے قبل بشار الاسد کی طیارہ حادثے میں ہلاکت کی متضاد خبریں سامنے آرہی تھی۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق میں باغیوں کے داخل ہونے سے پہلے ہی بشار الاسد ایک طیارے میں نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہوگئے تھے۔ وائٹ ہاوٓس نے ایک بیان میں کہا کہ صدر بائیڈن اور ان کی ٹیم شام میں پیش آنے والے غیر معمولی حالات پر بہت قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں،امریکی انتظامیہ مشرق وسطیٰ میں اپنے پارٹنرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دمشق معاملے سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے، ہمیں شام کی جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں ٹرمپ نے لکھا کہ بشار الاسد روس کی حمایت ختم ہونے کے بعد شام سے بھاگ گیا۔پیوٹن بھی اب انہیں بچانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔اطالوی وزیر خارجہ نے کہا ہم شام میں موجودہ صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔برطانوی نائب وزیر اعظم اینجلا رینر نے بشار الاسد کے دور اقتدار کے خاتمے پر کہا کہ برطانیہ شام میں اسد حکومت کے خاتمے کا خیر مقدم کرتا ہے۔ چینی حکومت نیامید ظاہر کی کہ شام جلد از جلد استحکام کی طرف لوٹ آئے گا۔چین شام میں پیش آنے والے واقعات پر بہت قریب سے گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ بالآخر جابر ریاست گر گئی۔ فرانس نے کہا وہ مشرق وسطیٰ میں سب کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے،جرمنی کے چانسلر اولاف شالز نے کہا بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ایک اچھی خبر ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ بشارالاسد نے فریقین سے بات چیت کے بعد اقتدار سے علیحدگی اختیار کی۔ روس کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بشارالاسد نے اپنا عہدہ اور ملک چھوڑنے سے قبل تنازع میں شریک تمام مسلح گروہوں سے بات چیت کی ہے۔ماسکو کے مطابق روس کے شام میں فوجی اڈے ہائی الرٹ پر ضرور ہیں مگر انھیں کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں ہے۔افغانستان کی طالبان حکومت نے شامی عوام اور باغیوں کو مبارکباد دی ہے۔وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم امید ظاہر کرتے ہیں کہ اقتدار کی منتقلی کا عمل شامی عوام کی امنگوں کے مطابق کیا جائے گا،جو ایک آزاد اور خدمت پر مبنی اسلامی حکومت کے قیام کے لیے راہ ہموار کرے گا۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ شام میں بشار الاسد کا تختہ الٹنا مشرق وسطیٰ میں ایک تاریخی دن اور ایران کے محور میں ایک مرکزی رابطہ کا زوال ہے۔ یہ ان حملوں کا براہ راست نتیجہ ہے جو ہم نے اسد کے اہم حامیوں ایران اور حزب اللہ پر کئے ہیں۔باغی فورسز کے دمشق میں داخلے کے بعد اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس نے شام کے ساتھ اقوام متحدہ کے زیر نگرانی بفر زون میں افواج تعینات کر دی ہیں۔ یہ قدم بفر زون کے تحفظ اور اسرائیل اور اس کے شہریوں کے دفاع کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ شام کے باغیوں نے اتوار کو کہا کہ اسلام پسند گروپ حیات تحریر الشام کے رہنما ابو محمد الجولانی جنگجووٓں کے دارالحکومت پر قبضے کے چند گھنٹے بعد دمشق پہنچے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امید ہے کہ دمشق میں بشار الاسد کے زوال کے بعد شام کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار رہیں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے۔شام کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ دمشق میں پاکستان کا سفارتی عملہ مکمل طور پر محفوظ ہیحکام نے شام میں رہنے والے تمام پاکستانیوں کو انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت ہے۔ادھر اسرائیل نے اتوار کو دمشق میں سرکاری سکیورٹی عمارتوں کو نشانہ بنایا ، رپورٹس کے مطابق سابق حکومت کی عمارتوں کے قریب ایک سکیو رٹی کمپلیکس کو نشانہ بنایا جس میں انٹیلی جنس، کسٹم اور ایک فوجی ہیڈکوارٹر شامل ہیں۔