غیر ملکی میڈیا کے مطابق میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شینباؤم نے واضح اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں امریکی فوج کو خوش آمدید نہیں کہیں گی اور کسی بھی صورت میں امریکی فوجی دستوں کی تعیناتی کو قبول نہیں کریں گی۔
صدر شینباؤم نے کہا کہ میکسیکو امریکا کے ساتھ تعاون کرتا ہے، لیکن کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت ناقابل قبول ہے اور اسے مکمل طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ معاملہ کسی بھی دوطرفہ معاہدے کا حصہ نہیں اور جب بھی اس پر بات کی گئی، میکسیکو نے ہمیشہ انکار کیا۔اسی سلسلے میں میکسیکو کی وزارت خارجہ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ میکسیکو اپنی سرزمین پر امریکی فوجی کارروائی کی اجازت نہیں دے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ منشیات کے کارٹلز سے نمٹنے کے لیے غیر ملکی فوجی دستوں کی تعیناتی ہماری خودمختاری کے منافی ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو ہدایت دی تھی کہ میکسیکو میں منشیات کے کارٹلز کے خلاف کارروائی کی جائے، جس پر میکسیکو نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔