احمدخان اچکزئی
محترم قارئین! ابراہم اکارڈ جدید تاریخ کا وہ اہم ترین سفارتی موڑ ہے جس نے مشرق وسطیٰ کے روایتی سیاسی ڈھانچے کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا۔ ستمبر 2020 میں امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والا یہ معاہدہ محض چند ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی نئی علاقائی حکمت عملی کا آغاز تھا جس نے دہائیوں سے قائم عرب اسرائیل دشمنی کے تصور کو تعاون اور مفادات میں بدل دیا۔ اس معاہدے میں اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات اور بحرین پیش پیش رہے، جس کے بعد سوڈان اور مراکش بھی اس کارواں کا حصہ بنے۔ اس کا نام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام پر رکھنا ایک علامتی کوشش تھی تاکہ یہودیت، اسلام اور عیسائیت کے مشترکہ جدِ اعلیٰ کے حوالے سے امن اور مذہبی ہم آہنگی کا تاثر دیا جا سکے، تاہم اس کے پیچھے چھپے ہوئے اصل محرکات معاشی، دفاعی اور تزویراتی (Strategic) تھے۔عرب ممالک کے تزویراتی خدشات اور مجبوریوں کا تجزیہ
عرب ممالک کے لیے فلسطین کے حق میں غیر لچکدار موقف اپنانا اب محض ایک اخلاقی مسئلہ نہیں رہا بلکہ اس کے ساتھ سنگین معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز جڑ چکے ہیں۔ اگر یہ ممالک اسرائیل کے ساتھ دشمنی برقرار رکھتے ہیں تو انہیں جدید ترین ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور دفاعی ساز و سامان تک وہ رسائی حاصل نہیں ہو پاتی جو ابراہم اکارڈ کے بعد ممکن ہوئی ہے۔ امریکہ کی جانب سے فوجی امداد اور سیاسی پشت پناہی برقرار رکھنے کے لیے بھی اسرائیل کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنا ان کی مجبوری بن گیا ہے۔ مزید خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے عرب ممالک کو ایک ایسے حلیف کی تلاش پر مجبور کیا جو عسکری طور پر مضبوط ہو، اور اس صورتحال میں اسرائیل ایک فطری اتحادی کے طور پر سامنے آیا۔ فلسطین کے حق میں سخت گیر موقف اپنانے کا مطلب امریکہ کی ناراضگی مول لینا ہے، جو ان ممالک کی تیل پر مبنی معیشت اور داخلی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔اسی طرح
اسرائیل کے لیے تزویراتی فوائد اور علاقائی برتری جو اسرائیل کے لیے ابراہم اکارڈ ایک بہت بڑی سفارتی فتح ثابت ہوا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار اسے کسی بڑے تنازعے یا فلسطینیوں کو خود مختاری دیے بغیر عرب دنیا میں قبولیت ملنا شروع ہوئی۔ اس سے اسرائیل کا وہ طویل عرصہ سے جاری سفارتی تنہائی کا خاتمہ ہوا جو قیامِ پاکستان سے اب تک اسے درپیش تھا۔ معاشی طور پر اسرائیل کو عرب منڈیوں تک رسائی ملی اور سیکیورٹی کے لحاظ سے اسے ایک ایسا بفر زون میسر آگیا جہاں وہ عرب ممالک کے ساتھ مل کر اپنے مشترکہ دشمنوں کے خلاف انٹیلی جنس کا تبادلہ کر سکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان معاہدات نے فلسطینی مسئلے کو ایک مرکزی عرب مسئلے سے گھٹا کر محض ایک مقامی تنازعہ بنا دیا، جس سے اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ میں واضح کمی آئی اور اسے اپنی پالیسیوں کو مزید جارحانہ انداز میں آگے بڑھانے کا موقع ملا۔
امریکہ کے عالمی و علاقائی مفادات کا تحفظ
امریکہ کے لیے یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں اس کے گرتے ہوئے اثر و رسوخ کو دوبارہ مستحکم کرنے کا ایک ذریعہ تھا۔ اسرائیل کی حمایت کرنا امریکہ کی خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو ہے، اور ابراہم اکارڈ کے ذریعے اس نے اپنے دو بڑے اتحادیوں (عرب اور اسرائیل) کو ایک میز پر بٹھا کر خطے میں ایک نیا بلاک تشکیل دیا۔ اس بلاک کا مقصد نہ صرف ایران کو لگام دینا تھا بلکہ چین اور روس کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنا بھی تھا۔ امریکہ اس تعاون کے بدلے عرب ممالک سے تیل کی بلا تعطل رسائی اور اپنی ہتھیاروں کی صنعت کے لیے بڑی منڈیوں کو یقینی بناتا ہے۔ اس عمل میں فلسطین کا مسئلہ پسِ پشت ڈال دیا گیا تاکہ امریکہ اپنے تزویراتی اہداف کو بغیر کسی رکاوٹ کے حاصل کر سکے مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ابراہم اکارڈ نے جہاں تجارت اور سیاحت کے نئے دروازے کھولے ہیں، وہاں فلسطینیوں کے حقوق اور ان کی جدوجہدِ آزادی پر گہرے سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ ناقدین اسے فلسطینیوں کے ساتھ پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیتے ہیں کیونکہ اس نے اسرائیل کے قبضے کو ایک طرح کا عالمی اور علاقائی جواز فراہم کر دیا ہے۔ اگرچہ اس معاہدے کو مشرق وسطیٰ میں امن کی نئی صبح کہا گیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب تک فلسطینیوں کو ان کا حقِ خود ارادیت نہیں ملتا، خطے میں پائیدار امن کا خواب ادھورا رہے گا۔ یہ معاہدہ ثابت کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں اخلاقیات پر ہمیشہ قومی مفادات، معاشی برتری اور طاقت کا توازن غالب رہتا ہے۔