بھارت: وقف بل کیخلاف شدید احتجاج، بی جے پی لیڈر کا گھر نذر آتش، دفعہ 163نافذ

بی جے پی لیڈر کی سوشل میڈیا پرمتنازع پوسٹ پرہزاروں افراد سڑکوں پرنکل آئے،انتہا پسند جماعت کے خلاف زبردست  نعرے بازی کی گئی
  نئی دہلی (آئی این پی ) بھارت بھر میں متنازع وقف (ترمیمی ) بل 2025پر جاری احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے  ۔شمال مشرقی ریاست منی پور بھی اس کی لپیٹ میں آ گئی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بی جے پی کے ایک مقامی رہنما کے گھر کو مشتعل مظاہرین نے آگ لگا دی۔یہ واقعہ ریاست کے ضلع تھوبال میں پیش آیا، جہاں مسلمانوں کی اکثریت آباد ہے۔ بھارتی میڈیارپورٹ کے مطابق بی جے پی لیڈر نے سوشل میڈیا پر ایک متنازعہ پوسٹ کی تھی، جسے مسلمانوں نے توہین آمیز قرار دیا۔ اس کے بعد ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور بی جے پی کے خلاف شدید مظاہرے کیے۔احتجاج کے دبائو میں آکر مذکورہ بی جے پی رہنما نے معافی مانگ لی اور اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے وقف بل کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، بی جے پی کی اقلیتی مخالف پالیسیوں کے باعث بھارت بھر میں مسلم برادری میں اشتعال بڑھتا جا رہا ہے۔منی پور کی حکومت نے حالات پر قابو پانے کے لیے دفعہ 163 نافذ کر دی ہے تاکہ مزید پرتشدد واقعات سے بچا جا سکے۔بین الاقوامی سطح پر بھی اس متنازع بل اور بھارت کے اندرونی حالات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور ماہرین مطالبہ کر رہے ہیں کہ عالمی برادری اس پر آواز اٹھائے۔