نظام تعلیم کوجدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت اور اساتذہ کا کردار

محمد زمان چیمہ

انسان اور تعلیم کا تعلق ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا ‘تعلیم کا عمل تخلیق آدم سے ہی شروع ہو گیا تھا۔رب کائنات نے آدم کو پیدا کیا اور انکو نام سکھائے جو آدم نے فرشتوں کو بتائے پھر بات آدم سے شروع ہوکر نبی آخر الزماں تک آئی تو پہلی وحی کا آغاز ہی " ا قراء￿  " سے ہوا یعنی کہ پڑھ۔
’’میں استاد بنا کر بھیجا گیا ہوں " یہ الفاظ اس عظیم ہستی کے ہیں جنھوں نے انسان کو انسانیت کا سبق پڑھا کرانسان کو حقیقی معنوں میں انسان بنایا۔تحقیق سے پتہ چال کہ تعلیم کا عمل تو تخلیق آدم کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا۔پھر وقت کا دھارا بدلتا گیا تو وقت کے تقاضے بدلے تو تعلیم کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی آگئی۔یہاں ہم بات کررہے ہیں دنیاوی تعلیم کی۔کیونکہ دنیاوی تعلیم بھی دینی تعلیم کی طرح بہت اہمیت کی حامل ہے اس بات کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب غزوہ بدر میں کفار قیدی بن کر آئے تو نبی کریم صل ہللا علیہ وآلہ السالم نے کہا کہ تم میں سے جو قیدی مسلمانوں کو تعلیم دے گا وہ آزاد ہے تو ظاہر کفار کے پاس دنیاوی تعلیم ہی تھی۔استاد کا رتبہ اس سے بڑا کیا ہوگا کہ دشمن کو بھی آزادی صرف اس لیے مل جائے کہ وہ تعلیم دے سکتا ہے۔استاد کسی بھی معاشرے کی جڑوں اور نظام میں بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہیاور انھیں گھن لگنے سے بچاتاہے۔اگر اکیسویں صدی کے اس دور کو سائنسی اور تعلیمی دور کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کیونکہ تعلیم نے جس تیزرفتاری سے ترقی بیسویں اور اکیسویں صدی میں کی ہے اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔ماضی میں تعلیم اور تعلم کے وہ وسائل موجود نہ تھے جو اب میسر ہیں۔بالشبہ تعلیم کی نشر واشاعت اور ذرائع وسائل سے معاشرے میںانقلاب برپا ہوا ہے۔اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اخالقی،تمدنی،ثقافتی اور معاشرتی اقدار سے اس معاشرے کو چار چاند لگ جاتے۔امن و سکون، محبت والفت اور بھائی چارے سے یہ معاشرہ مثالی معاشرہ بن جاتا اور قوم مہذب بن قوم بن جاتی مگر صد افسوس ایسا نہ ہوسکا۔کیوں ؟ ہمارے پاکستان میں بھی تعلیمی نظام ایسا ہے کہ ہم اس سے خاطر خواہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔طلبہ ڈگریاں تو حاصل کر رہے ہیں مگر کیا وجہ ہیں سائنسدان، ادیب اور دانشور پیدا نہیں کر رہے۔علم تو ہے مگر شعور کا فقدان ہے۔کیا کہیں ذمہ دار عناصر سے اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی ہوئی ہے کہ ہم اس عمارت کو مضبوط نہ بنا سکے۔ ہم ترقی یافتہ یا جدید علوم کے ہتھیاروں سے لیس تو ہوئیمگر اخالقی قدروں کا جنازہ نکلتا گیا۔قابلیت اور معیار کے پیمانے پر پورا اترنے کی دوڑ میں اخالقیات سے دور ہوتے چلے گئے عظمت استاد کے اللے پڑگئے۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بدلتے وقت کے تقاضوں کے مطابق استاد خود کو ڈھالیں۔نسل نو کے ساتھ چلنے کیلئے ضروری ہو گیا ہے کہ استاد جدید علوم۔جدید معلومات اور جدید طریقہ تدریس سیکھنے کے ساتھ ساتھ سیرت طیبہ صل ہللا علیہ وآلہ وسالم کو بھی پڑھیں تاکہ طلبہ کی روحانی تربیت کرکے عظمت استاد کو بھی بچاسکیں۔آج کے استاد کیلئے یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔اکیسویں صدی کے بدلتے ہوئے منظر نامے میں استاد کا کردار بہت حد تک بڑھ چکا ہے۔اب استاد کا کام صرف علم کی منتقلی نہیں بلکہ استاد ایک رہنما ،محرک،سہولت کار اور ایک کوچ کے طور پر کام کرتا ہے۔اس صدی میں تعلیم کا کردار مرکزی اہمیت کا حامل ہے صرف وہی ممالک سبقت لے جائیں گیجن کے افراد تعلیم یافتہ، ہنر منداور جدید علوم کے ہتھیاروں سے لیس ہوں گے یہ سخت ترین مقابلے کی صدی ہیاس میں اوسط درجے کے افرادکیلئے جگہ نہ ہوگی۔اس صدی کے اساتذہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ جدید علوم اور تکنیکس سے آراستہ ہوں اس صدی کے تقاضوں سے بخوبی واقف ہوں۔دیکھنے میں آ رہا ہے کہ پاکستان میں الکھوں کی تعداد میں تربیت یافتہ اساتذہ ہر سال ڈگریاں تو لے رہے ہیں مگر کالس روم ان کی تربیت کا اثر نظر نہیں آتا اس کی وجہ اساتذہ کا دقیانوسی اور فرسودہ طریقہ تدریس ہے ہمارے ہاں زیادہ تر اساتذہ کے پاس مٹھی بھر طریقہ تدریس ہیں جن سے وہ کلاس روم میں صرف وقت گزارتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم طلبہ سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ہمارے ہاں ایک مفروضہ یہ تھا کہ طلبہ ایک سادہ تختی کی مانند ہیں استاد اس پرجو لکھے گا وہ نقش ہو جائے گا۔مگر اس صدی میں یہ مفروضہ غلط ثابت ہو گیا۔ اب طلبہ سادہ تختی کی مانند نہیں ہیں۔اور نہ ہی ان کا ذہن خالی برتن ہے جس میں استاد جو انڈیل دے گا اس سے مطلوبہ نتائج حاصل کر لے گا۔آج کا طالب استاد سے دس قدم آگے کی بات کرتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ جب تک استاد طالب علم سے پچاس قدم آگے نہیں ہو گا بات نہیں بنے گی۔پاکستان میں اساتذہ کو جدید تیکنیکس اور اس صدی کے تقاضوں کو سیکھنے کی اور سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔استاد کو چاہئے کہ طلبہ میں تنقیدی سوچ مسئلے کا حل نکالنے کی صالحیت اور ان میں مہارت پیدا کرنے کی کوشش کرے تاکہ وہ دنیاوی مسائل کا سامنا کر کے ان سے نبرد آزما ہو سکیں اس ڈیجیٹل دور میں معلومات کا ایک سیلاب ہے جس میں صحیح اور غلط کا فرق کرنا مشکل ہے استاد کو طلبہ کو اخالقی اقدار اور سماجی ذمہ داریوں کی تعلیم بھی دینی ضروری ہے۔کیونکہ تعلیم ہی وہ زینہ ہے جس کو طے کر کے ہم اکیسویں صدی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے قابل ہوں گے اور دنیا کی دوڑ میں شامل ہو سکیں گے۔کیونکہ
اٹھو!وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی
دوڑو!زمانہ چال قیامت کی چل گیا
اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت ، جدید علوم اور جدید طریقہ تدریس ہی ہمارے تعلیمی نظام کو بہتر اور موثر بنا سکتاہے۔ آج سے چودہ سو سال پہلے بھی نبی کریم صل ہللا علیہ وآلہ السالم نے بھی معاشرے کی بہتری اور مثالی ریاست کے حصول کیلئے تعلیم کو ہی بنیاد قرار دیا اور ذریعہ بنایا۔ہمارے نبی کریم صل ہللا علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب صفہ کو تعلیم دینے کے جو طریقے رائج کئیان میں بھی دین کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی شامل تھی۔ طالب علم کی کامیابی اساتذہ کی کامیابی کی مرہون منت ہے یعنی قابل ،باصالحیت اور پیشہ ورانہ تربیت اور مہارت
سے بھرپور اور محنتی اساتذہ کے بغیر طالب علم تیار کرنا تقریبا ناممکنات میں سے ہے۔پیشہ ورانہ تربیت بہت اہم ہے اس کیونکہ اس سے اساتذہ کو اپنے علم اور مہارتوں کو مسلسل بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے جو بالاخر طلبہ کوفائدہ پہنچاتی ہے۔اگر ہم اپنے تعلیمی اداروں کو بہتر اور کامیاب ادارہ بنانا چاہتے ہیں تو اس کیلئے اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کا انعقاد اور ان کو جدید تیکنیکس سے آراستہ کرنا از حد ضروری ہے اس کیلئے ادارے کو موثر اور مربوط پروگرام تشکیل دینا ہوں گے۔پیشہ ورانہ تربیت طلبہ کو بہتر انداز سے سکھانے اور تعلیمی سرگرمیوں
میں مشغول رکھنے کے طریقے بتاتی ہے۔اس کے عالوہ پیشہ ورانہ تربیت استاد کو جدید تحقیق، رحجانات تعلیمی میدان میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق نئی معلومات فراہم کرتی ہیاس سے انھیں اپنے شعبہ میں آنے والی تبدیلیوں اور جدت سے آگاہی ملتی ہے اور ان تکنیکس کو کالس روم میں الگو کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ورکشاپس اور تربیتی پروگرام کے ذریعے اساتذہ کو اپنے طلباء￿  کی متنوع ضروریات کو بہتر طور پر سمجھ آتی ہے۔خصوصی طور پر زبان کی رکاوٹیں اور ثقافتی اختالفات کومدنظر رکھ کر وہ جان سکتے ہیں کہ ایک جامع کلاس روم کے ماحول کو بہتر کیسے بنایا جا سکتا ہے جو تمام طلباء￿  کی ضروریات کو یکساں مدنظر رکھے۔استادکی تربیت بالشبہ طلباء￿  کی کارکردگی کو بہترین بنائے گی اس کے ساتھ ساتھ ادارے کا معیار بھی بدلے گا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اساتذہ کی تربیت کے پروگرام کیسے تشکیل دیئے جائیں؟اس کیلئے ضروری ہے 
تین بنیادی Domainsکا خیال رکھا جائے۔
1۔نظریاتی تربیت ) Ideological)
 ) Methodology or pedagogy ( تدریس ہائے۔طریق2
(Subject based Training s) تربیت کی۔مضامین3
یہاں ایک پہلو کا ذکر کرنا ضروری ہے اور وہ اساتذہ سے طلبہ کی محبت۔استاد صرف درس و تدریس تک ہی محدود نہ ہوں بلکہ طلباء￿  کے کائونسلر بھی ہوں۔الغرض ہر ملک و قوم کا مستقبل ایک سکول میں تیار ہوتا ہیاور یہ اساتذہ ہی ہیں جن کے ہاتھوں میں ملک و قوم کا مستقبل ہے اس لئے اساتذہ کو کسی بھی ملک وقوم کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کہنا غلط نہ ہو گا اس لئے ضروری ہے کہ اساتذہ با کردار اور پیشہ ورانہ ہتھیاروں سے لیس ہوں۔ہر شخص کی زندگی میں کوئی نہ کوئی استاد ایسا ضرور ہوتا ہے جو اس کی زندگی کی تبدیلی کا محرک ہوتا ہیکوئی بھی
شخص اپنے والدین اوربہن بھائیوں سے وہ باتیں نہیں سیکھ سکتا جو وہ ایک سکول کی چار دیواری میں اپنے اساتذہ سے سیکھتا ہیاور اساتذہ ہی اس کے اندر چھپی صالحیتوں کو ابھارتے اور نکھارتے ہیں۔اس کی حوصلہ افزائی کر کے اس ذہن کو وسعت دیتے ہیں۔طلبہ کے ذہنوں کی آبیاری کیلئے استاد کے ذہن کی آبیاری ہونی چاہئے۔ اساتذہ کا کردار مثالی ہونا ضروری ہے تاکہ طلباء￿  ان کو اپنا آئیڈیل بنائیں۔
وہ کہتے ہیں ناں  استاد بادشاہ نہیں ہوتا مگر بادشاہ بنا دیتا ہے۔